ایسے وبائی امراض جنہوں نے تاریخ بدلنے میں مدد کی. دستاویزی رپورٹ


کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد دنیا بھر کے لاکھوں افراد اپنی زندگی بسر کرنے کے انداز کو ڈرامائی انداز میں بدل رہے ہیں۔ ان میں سے بہت ساری تبدیلیاں عارضی ہوں گی۔ لیکن تاریخ میں بیماریوں کے بڑے طویل مدتی اثرات مرتب ہوئے ہیں - خاندانوں کے زوال سے نوآبادیاتی نظام میں اضافے اور یہاں تک کہ آب و ہوا میں بھی۔

1350 میں یورپ میں پھیلنے والے طاعون کا پیمانہ خوفناک تھا، جس نے آبادی کے تقریباً ایک تہائی حصے کو ختم کر دیا۔ سمجھا جاتا ہے کہ بوبونک طاعون سے مرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد کا تعلق کسان طبقے سے تھا۔ جس کے باعث زمینداروں کے لیے مزدوری کی قلت پیدا ہوگئی۔ اس سے زراعت کے شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں میں سودے بازی کی طاقت زیادہ بڑھ گئی۔

لہٰذا یہ سوچ دم توڑنے لگی کہ لوگوں کو پرانے جاگیردارانہ نظام کے تحت کرایہ ادا کرنے کے لیے کسی مالک کی زمین پر کام کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ اس نے مغربی یورپ کو جدید، تجارتی، اور نقد پر مبنی معیشت کی طرف دھکیل دیا۔

جب لوگوں کو کام کے لیے ملازمت پر رکھنا مشکل ہو گیا تو کاروباری مالکان نے لوگوں کی ضرورت کو تبدیل کرنے کے لیے لیبر سیونگ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری شروع کر دی۔ یہاں تک کہ یہ تجاویز بھی سامنے آئی ہیں کہ وبا پھیلنے کے بعد یورپی سامراج کی حوصلہ افزائی بھی ہوئی۔ سمندری سفر اور مہم جوئی کو انتہائی خطرناک سمجھا جاتا تھا لیکن گھر میں طاعون کی وجہ سے موت کی شرح اس قدر بڑھ گئی کہ لوگ طویل سفر پر جانے کے لئے زیادہ رضا مند ہونے لگے۔ اور اس سے یورپی نوآبادیات کو وسعت دینے میں مدد ملی۔ لہذا، معیشت کو جدید بنانے، ٹیکنالوجی میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور غیر ملکی توسیع کی حوصلہ افزائی سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں سے مغربی یورپ کو دنیا کے ایک طاقتور ترین خطے میں شامل ہونے کی راہ ہموار ہوئی۔.

امریکہ میں چیچک کی ہلاکتیں اور موسمیاتی تبدیلی


امریکہ کی 15ویں صدی کے آخر میں نوآبادیات نے اتنے لوگوں کو ہلاک کیا جو شاید دنیا کی آب و ہوا کو تبدیل کرنے کا باعث بنا ہو۔ برطانیہ میں یونیورسٹی کالج لندن کے سائنسدانوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یورپی توسیع کے نتیجے میں اس خطے کی آبادی ایک سو سال میں صرف پانچ یا چھ ملین رہ گئی ہے۔ان میں سے بہت سی اموات نوآبادیاتی نظام کے علمبرداروں کی طرف سے متعارف کروائی جانے والی بیماریوں کی وجہ سے ہوئیں۔ سب سے بڑا قاتل چیچک تھا۔ دیگر مہلک بیماریوں میں خسرہ ، انفلوئنزا، بوبونک طاعون، ملیریا، ڈیپتھیریا، ٹائفس اور ہیضہ شامل تھے۔ لیکن اس خطے میں جانوں کو تباہ کن نقصان اور خوفناک انسانی مصائب کے علاوہ، پوری دنیا کو اس کے نتائج بھگتنا پڑے۔

زندہ رہ جانے والے کم افراد کی تعداد کے باعث کھیتی باڑی کے لیے استعمال ہونے والی زمین کم ہو گئی اور جنگلات میں تبدیل ہونے لگی۔ فرانس یا کینیا جتنا بڑا خطہ جو کہ تقریباً پانچ لاکھ ساٹھ ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل تھا، تبدیل ہو گیا۔ پودوں اور درختوں کی اس زبردست نشوونما کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں کمی واقع ہوئی اور اسی وجہ سے دنیا کے بڑے حصوں میں درجہ حرارت بھی گر گیا۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس کے ساتھ ہی بڑے آتش فشاں پھٹے اور شمسی سرگرمیوں میں کمی کی وجہ سےایک ایسا عرصہ شروع ہوا جسے "لٹل آئس ایج" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بد قسمتی سےسب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں سے ایک یورپ تھا، جسے فصلوں میں شدید نقصان اور قحط کا سامنا کرنا پڑا۔.

زرد بخار اور ہیٹی کی فرانس کے خلاف بغاوت


ہیٹی میں پھیلنے والی وبا سے فرانس کو شمالی امریکہ سے باہر نکالنے میں مدد ملی ، اور اس کے نتیجے میں امریکہ کے سائز اور طاقت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ 1801 میں یورپی سامراجی طاقتوں کے خلاف غلاموں کی طرف سے ہونے والی بغاوت کی تحریک کے بعد ٹوساں لو ویختےیو نے فرانس کے تعاون سے اپنی حکومت قائم کی۔ بعد ازاں فرانسیسی لیڈر نیپولین بوناپارٹ نے اسے زندگی بھر کے لئے گورنر مقرر کر دیا۔ اس نے جزیرے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور اسے دباؤ کی غرض سے ہزاروں فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ میدان جنگ میں، کم از کم، وہ کافی حد تک کامیاب رہے۔

اگرچہ زرد بخار کا اثر تباہ کن تھا، اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً پچاس ہزار فوجی، افسر، ڈاکٹر اور ملاح ہلاک ہوگئے تھے اور صرف تین ہزار مرد زندہ فرانس لوٹے تھے۔ افریقہ سے پھوٹنے والی اس وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے یورپی افواج میں کوئی قدرتی مدافعت موجود نہیں تھی۔ اپنی فوجوں کی شکست اور بدنظمی دیکھ کر نپولین نے نہ صرف ہیٹی بلکہ شمالی امریکہ میں فرانس کے نوآبادیاتی عزائم کو بھی ترک کردیا تھا۔
ان کی افواج کے ہیٹی بغاوت کو کچلنے کے ناکام مشن کے آغاز کے صرف دو سال بعد، فرانس کے رہنما نے 2.1 ملین مربع کلومیٹر اراضی امریکی حکومت کو بیچ ڈالی ، جسے ’لوویزیانا پرچیز‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس فروخت کے بعد ملک کا سائز دوگنا بڑھ گیا تھا۔

افریقہ میں پایا جانے والا جانوروں کا طاعون اور افریقہ میں نو آبادیاتی توسیع


جانوروں کو متاثر کرنے والی ایک مہلک بیماری نے افریقہ میں یورپ کے نوآبادیات کو تیز کرنے میں مدد فراہم کی۔ یہ کوئی وبا نہیں تھی جس نے لوگوں کو براہ راست ہلاک کیا ، بلکہ ایک ایسی بیماری تھی جس نے جانوروں کو مار ڈالا۔ 1888 سے 1897 کے درمیان رینڈرپیسٹ وائرس ،جسے مویشیوں کے طاعون کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، نے افریقی مویشیوں کو نوے فیصد تک ہلاک کیا۔ یہ ہلاکتیں افریقہ ، مغربی افریقہ اور جنوب مغربی افریقہ کے ہورن کی کمیونٹیز میں ہوئیں جہاں اس نے تباہی مچا دی۔ مویشیوں کے نقصان سے افلاس ، معاشرے میں خرابی اور مہاجرین کے فرار ہونے کے کئی واقعات ہوئے۔ .

یہاں تک کہ فصلوں کے اگانے والے علاقوں پر بھی اثر پڑا ، کیونکہ بہت سے لوگوں نے زمین پر ہل چلانے کے لئے بیلوں پر انحصار کیا۔ اس بیماری کی وجہ سے افراتفری کے باعث یورپی ممالک کو انیسویں صدی کے آخر میں افریقہ کی بڑی آبادیاں آباد کرنا آسان ہوگیا۔ ان کے منصوبے رینڈرپسٹ یا جانوروں کے طاعوں کی وبا پھوٹنے سے چند سال قبل شروع ہوا تھا۔اٹھارہ سو چوراسی سے اٹھارہ سو پچاسی میں برلن میں منعقدہ ایک کانفرنس میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، پرتگال، بیلجیئم اور اٹلی سمیت یورپ کے 14 ممالک نے افریقی علاقے پر اپنے دعوؤں پر بات چیت کی، جس کو باقاعدہ شکل دے کر نقشہ سازی کردی گئی۔ براعظم پر اس کا اثر زلزلہ خیز تھا۔
1870 کی دہائی میں افریقہ کا صرف دس فیصد حصہ یورپی کنٹرول میں تھا، لیکن 1900 تک یہ بڑھ کر نوے فیصد ہوچکا تھا۔ اور اس اراضی پر قبضہ رینڈرپسٹ پھیلنے کی وجہ سے افراتفری کی مدد سے ہوا۔ اٹلی نے 1890 کی دہائی کے اوائل میں اریٹیریا کا رخ کیا۔ اقوام متحدہ کی افریقہ کی ایک تاریخ بیان کرتی ہے کہ کس طرح نو آبادیاتی نظام اس علاقے میں آیا جہاں پہلے ہی معاشی بحران تھا۔

چین میں طاعون اور منگ خاندان کا زوال


منگ خاندان نے تقریباً تین صدیوں تک چین پر حکومت کی۔ اس دوران اس نے مشرقی ایشیا کے ایک وسیع حصے پر بہت بڑا ثقافتی اور سیاسی اثر و رسوخ قائم کیا۔ لیکن طاعون کی وبا کی وجہ سے یہ سب کچھ تباہ کن انجام تک پہنچا۔ 1641 میں ایک وبا شمالی چین پہنچی، جس سے کچھ علاقوں میں بیس سے چالیس فیصد کے درمیان آبادی ہلاک ہوگئی۔ طاعون اس وقت پھیلا جب خشک سالی اور ٹڈی دل کا بھے سامنا تھا۔

کھیتوں میں فصلیں تباہ ہو گئیں، اور لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہ رہا۔ کہا جاتا ہے کہ لوگوں نے وبا سے مرنے والے افراد کی لاشوں کو کھانا شروع کردیا تھا۔ یہ بحران شاید بوبونک طاعون اور ملیریا کے امتزاج کی وجہ سے ہوا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ شمال سے آنے والے حملہ آور اپنے ساتھ لائے ہوں، جو بالآخر عظیم منگ خاندان کو ختم کرنے کا سبب بنی۔
ڈاکوؤں کے حملوں کے بعد منگ راج کی طرف سے منچوریا کی جانب سے منظم یلغار ہوئی، جس نے بعد میں منگ خاندان کی جگہ لے لی، اور اپنی وہ سلطنت قائم کرلی جو صدیوں تک جاری رہی۔ اس وقت کی منگ قیادت میں بہت سے ایسے معاملات تھے جن میں بدعنوانی اور قحط بھی شامل تھا ،لیکن یہ مہلک بیماری ان کے اقتدار کے خاتمے کی وجہ بنی۔



Courtesy BBC News



کورونا وائریس: امریکہ میں چوبیس گھنٹوں کے دوران 1480 افراد ہلاک

نیویارک: گزشتہ چوبیس گھنٹے امریکہ کے لئی جان لیوا 

امریکہ میں چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائریس سے مرنے والوں کی تعداد 1480 ہو گئی ہے جو کہ امریکہ میں اب تک کورونا وائریس سے ہونے والی ہلاکتوں میں ریکارڈ اضافہ ہے۔
ملک بھر کے ہسپتالوں نے اپنی گنجائش بڑھانے کے لئے ریٹائرڈ ملازمین اور دیگر پروفیشنل افراد کی بھرتی کا کام شروع کردیا ہے جبکہ امریکہ بھر میں ذاتی حفاظت کے سامان اور وینٹی لیٹرز کی قلت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔
نیویارک کورونا وائریس سے بدترین متاثرہ شہر ہے جہاں کل اموات کا ایک چوتھائی حصہ ریکارڈ کیا گیا۔
 جبکہ عالمی سطح پر کورونا وائریس سے ہلاکتوں کی تعداد 57000 ہو گئی ہے۔


Translate

In the twenty-four hours in the United States, the death toll from the Coronavirus has increased to 1480, a record increase in deaths from the Coronavirus in the United States so far.

Hospitals across the country have begun recruiting retired employees and other professionals to increase their capacity, while the shortage of personal safety equipment and ventilators is growing across the United States.

New York is the worst-affected city in the Coronavirus, with a quarter of the total deaths recorded.

  However, the death toll from the Coronavirus has increased to 57,000 globally.

کورونا وائرس لاک ڈاؤن: تعمیراتی شعبے کے لئے مراعات کا اعلان


اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے جمعہ کے روز تعمیراتی شعبے کے لئے امدادی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن اور معاشی سرگرمیوں کے مابین توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔

وزیر اعظم نیشنل کمانڈ سنٹر کے دفتر میں اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ وزیر اعظم نے تعمیراتی شعبے کے لئے مراعات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد مزدوروں کو روزگار کی فراہمی ہے تاکہ انہیں بھوک اور آنے والے مشکل حالات سے بچایا جاسکے۔

وزیر اعظم عمران نے کہا کہ اس سال تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد یا اداروں سے ان کی آمدنی کے ذرائع کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ انہوں نے کہا ، "حکومت نے تعمیراتی شعبے کے مطالبے سے اتفاق کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مقررہ ٹیکس متعارف کرایا ہے۔"
 انہوں نے کہا ، "اس اقدام سے ٹیکس کی ادائیگی میں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ ، اگر یہ سرمایہ کاری نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے لئے ہے ، تو ہم اس پر 90 فیصد ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔"

انہوں نے کہا کہ غیر رسمی شعبے میں مواد اور خدمات پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ، "ٹیکس صرف اسٹیل اور سیمنٹ پر جمع کیا جائے گا ، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ باقاعدہ شعبے ہیں۔"

وزیر اعظم عمران نے کہا کہ حکومت "کسی بھی گھرانے کو جو اپنا مکان بیچنا چاہتی ہے" سے کوئی کیپیٹل گین ٹیکس وصول نہیں کرے گی۔ انہوں نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے لئے 30 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف معاشی سرگرمیوں کو باقاعدہ بنائے گا اور دوسری طرف غریبوں کے لئے مکانات بھی تعمیر کیے جانے کو یقینی بنائیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ تعمیراتی شعبے کو صنعت کا درجہ دیا جائے اور کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ کے قیام کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا پاکستان میں تعمیراتی صنعت کو فروغ دینے کے لئے ، پہلی بار ایک ادارہ تشکیل دیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اس بات کا اندازہ کرنے کے لئے دوسرے شعبوں پر توجہ دے گی کہ آیا انہیں امداد فراہم کی جاسکتی ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کے لاک ڈاؤن اور ضابطے کے درمیان توازن پیدا کیا جاسکے۔

انہوں نے کورونا وائرس سے متعلق امدادی فنڈ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس کا آغاز صرف اور صرف پاکستان کے غریب لوگوں کے مفاد کے لئے کیا ہے۔ انہوں نے کہا ، "ہم اگلے تین سے چار دن میں چیک دینا شروع کردیں گے ،" انہوں نے مزید کہا کہ 40 لاکھ افراد نے فنڈز کے لئے اندراج کیا ہے۔

کورونا وائرس کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ایک بے مثال بحران ہے اور ہر قوم اپنے اپنے انداز میں وائرس سے لڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی مختلف ریاستیں وائرس سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے لئے مختلف طریقے استعمال کر رہی ہیں۔

قوم کو متحد کرنے کی ضرورت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ، وزیر اعظم نے کہا کہ جب بھی پاکستان کو کسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ساتھ رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ، مجھے صرف ان لوگوں کے خلاف تحفظات ہیں جو اپنی بدعنوانی چھپانے کے لئے آفات کا استعمال کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوگا۔



Translate


Corona Virus Lockdown: Prime Minister Imran announces concessions for the construction sector

ISLAMABAD: Prime Minister Imran Khan on Friday announced a relief package for the construction sector, saying that a balance must be maintained between lockdown and economic activity.

The Prime Minister was talking to the media after chairing the meeting at the National Command Center office. The Prime Minister announced a set of concessions for the construction sector, saying that his main purpose was to provide jobs to the workers so that they could be protected from "hunger and imminent hardship."

Prime Minister Imran said that people or firms investing in the construction sector this year will not be asked about their sources of income. "The government has decided to agree to the demand for the construction sector and introduce fixed taxes," he said. "The move will reduce tax payments," he said. "Also, if this investment is for a new Pakistan housing scheme, we will exempt 90 percent of the tax on it."

He said the withholding tax on goods and services in the informal sector has been abolished. "The tax will be collected only on steel and cement, mainly because it is a regular sector," he said.

Prime Minister Imran said the government would not receive any capital gains tax from "any family who wants to sell their house". He announced a subsidy of Rs 30 billion for the new Pakistan Housing Scheme and said that on one hand it would regularize economic activities and on the other hand houses would be ensured for the poor.

The Prime Minister said that the government ensures that the construction sector is given industry status and the establishment of the Construction Industry Development Board is announced. "To promote the construction industry in Pakistan, an institution will be established for the first time," he said.

The Prime Minister said the government will look at other areas to assess whether they can be funded so as to balance the economic activities with lockdown and regulation.

Talking about the Corona Virus Relief Fund, he said that the government started it only for the benefit of the poor people of Pakistan. "We will start giving checks in the next three to four days," he said, adding that 4 million people have registered for the funds.

Talking about the Coronavirus, the Prime Minister said that this is an unprecedented crisis and every nation is trying to fight the virus in its own way. He cited the example of the United States, saying that different states of the country are using different methods to reduce the damage caused by the virus.

Responding to a question about the need to unite the nation, the Prime Minister said that whenever Pakistan faces a crisis, they stay together. "I only have protections against people who use disasters to hide their corruption. That won't happen," he said.

Talking about the difference between the state and the provinces in dealing with the Coronavirus outbreak, Prime Minister Imran said he did not want to force provinces to do anything after the 18th Amendment was approved.

Balance between lockdown and economic recession is essential
He said, "In Pakistan, on the one hand, you have the Corona virus and on the other hand, you have to deal with hunger" Lockdown's success depends on whether the poor get food in their homes.

ہندوستانی حکومت نے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا



ہندوستان کی انتہا پسند حکومت نے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے تبلیغی جماعت کو کورونا وائریس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے دیا۔
ملک میں کورونا وائریس کے تیزی سے پھیلاو سے بھارتی حکومت بوکھلا گئی تبلیغی جماعت کو موردالزام ٹھہرا کر مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں بھارتی حکومت نے تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا محمد سعد کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔
یاد رہے کہ بھارت میں 2600 سے زیادہ کورونا وائریس کے مریض ہو چکے ہیں

این سی سی: سی پیک منصوبوں پر کام کھولنے کا فیصلہ


اسلام آباد (سٹی نیوز پاکستان) قومی رابطہ کمیٹی نے جمعرات کو ایک اجلاس میں پاک چین اقتصادی راہ داری پر کام کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔
وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والی میٹنگ میں ملک میں کورونا وائریس کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
سی پیک منصوبوں پر کام کھولنے کے فیصلے کے بعد تعمیراتی صنعتیں 3 اپریل کو کھول دی جائیں گی جبکہ وزیر اعظم عمران خان معاشی سرگرمیاں برقرار رکھنے کے لئیے تعمیراتی صنعت کے لئے پیکج کا اعلان بھی کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی معاشی ٹیم نے امدادی پیکج پر مشاورت مکمل کرلی ہے اور اس ضمن میں مزدوروں کی نقل و حمل کے لئیے صوبوں کو ایک ایڈوائزری بھی جارء کی جائے گی۔
وزیر اعظم کی ہدایت پر وزارت تجارت نے ان صنعتوں کی فہرست تیار کی ہے جو کھول دی جائیں گی۔
وزیر اعظم نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان میں کورونا وائریس کی رفتار ایسی نہیں جو دوسرے ممالک میں ہے۔انہیں یقین ہے کہ پاکستان جلد اس مسئلے پر قابو پا لے گا۔

ملک بھر میں آج نماز جمعہ کے اجتماع پر پابندی رہے گی



اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کورونا وائریس کے پھیلاو کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میں آج ملک بھر میں نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ایک وقت میں صرف چار سے پانچ افراد کو نامز کی ادائیگی کی اجازت ہوگی۔
ادھرحکومت سندھ نے جمعہ کے اجتماعات کو محدود کرنے کے لئیے دوپہر 12 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک مکمل لاک ڈاون کا علان کیا ہے اور شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ گھروں میں نماز ادا کریں۔
دریں اثناء اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں کورونا وائریس کے پھیلاو سے بچنے کے لئیے گھروں میں ہی نماز جمعہ ادا کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مساجد کو کمیونٹی مراکز کا کردار ادا کرنا چاہئیے۔

پاکستان میں فلائیٹ آپریشن بحال کردیا گیا



پاکستان میں فلائیٹ آپریشن جزوی طور پر بحال کردیا گیا ہے۔پی آئی اے کی پروازیں کراچی سے 600 اور لاہور سے 504 مسافروں کو لے کر ٹورنٹو کو روانہ ہوگئیں ہیں۔ 
اگلی پرواز جمعہ کو روانہ ہوگی جس کے لئے مسافروں کی بکنگ شروع کردی گئی ہے۔
روانگی سے قبل مسافروں کی مکمل سکریننگ کی گئی جبکہ سامان کو ڈس انفیکشن کیا گیا تھا۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق کینڈین حکومت کی درخواست پر حکومت پاکستان سے اجازت لے کر پی آئی اے کا فلائیٹ آپریشن جزوی طور بحال کیا گیا ہے۔دونوں پروازوں میں بین الاقوامی معیار کے مطابق حفاظتی اقدامات کئیے گئے ہیں۔واپسی پر طیارے خالی آئیں گے۔
ترجمان پی آئی اے نے کورونا وائریس کے پیش نظر مسافروں سے آن لائن ٹکٹوں کی بکنگ کی درخواست کی تاکہ ہجوم سے بچا سکے۔