دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں، برطانیہ میں ویکسین کی ٹرائل کا آغاز کر دیا گیا ہے تاہم مہلک وباء کے باعث ایک اور حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق کورونا دیگر جسمانی اعضاء کی نسبت آنکھ میں طویل عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی تباہی کی لپٹ میں ہر کوئی ہے جن لوگوں کو نہیں لگی وہ اس کے خوف میں رہ رہے ہیں اور خوف بالکل حقیقی ہے جس سے کوئی فرار نہیں۔ وبا دنیا کے مختلف ممالک میں تیزی سے ایک انسان سے دوسرے انسان تک پھیل رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الوقت اسے روکنے کا اگر کوئی طریقہ ہے تو وہ ہے خود کو روکنا، مطلب اپنے روز مرہ کی عادات میں تبدیلی لانا۔ اس میں ہاتھ دھونے سے لے کر ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے لے کر ان جگہوں پر اکٹھا ہونا شامل ہے جہاں مجمع زیادہ ہے۔ جتنا کم گھر سے نکلیں اتنا ہی بہتر ہے۔ بس یہ سمجھ لیں کہ کم ملنے سے محبت کم نہیں ہو رہی بلکہ اپنا اور دوسرے کا بھلا ہو رہا ہے۔ دریں اثناء کورونا وائرس سے متعلق روزانہ نئی نئی تحقیقات سامنے آرہی ہیں، عالمی وبا کی عام علامات تو کھانسی، نزلہ اور بخار ہیں تاہم ایک رپورٹ کے مطابق اب ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے ’ڈیلی میل‘نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس انسانی آنکھ میں بھی زندہ رہ سکتا ہے، مارچ میں کورونا وائرس کے مریضوں میں سرخ یا گلابی آنکھوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق زیادہ تر کورونا مریضوں میں آشوب چشم کی علامات پائی گئی ہیں، تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ خاتون مریضہ میں کورونا وائرس کی علامت ظاہر ہونے کے بعد کم از کم 21 دن تک اس کی آنکھوں میں وائرس موجود تھا۔ خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صحت مند نظر آنے کے باوجود یہ وائرس کسی بھی شخص میں موجود ہوسکتا ہے۔ چین سے تعلق رکھنے والی 65سالہ خاتون میں نزلہ اور کھانسی جیسی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں البتہ ان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوگئی، جس کے بعد معلوم ہوا کہ اس وائرس نے ان کی آنکھ کو متاثر کیا تھا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق مذکورہ خاتون اٹلی سے چین کے شہر ووہان پہنچی تھی جہاں ان میں ان وائرس کی تشخیص ہوئی۔ کورونا دیگر جسمانی اعضاء کی نسبت آنکھ میں طویل عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی