تفصیلات کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی سماعت ہوئی،عدالت میں ایف آئی اے پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز احمد نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ قانون کے مطابق پاکستان میں کیس چلانے کی اجازت ہے، برطانوی حکومت کو شواہد میں صرف سزائے موت پر اعتراض تھا،برطانوی حکومت کو یقین دلایا گیا کہ ملزمان کو سزائے موت نہیں دی جائے گی۔
ایف آئی اے پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز احمد نے کہاکہ برطانوی گواہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوچکے ہیں، برطانوی گواہوں کے بیان قابل قبول شہادت ہیں،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ پاکستان میں بینک اکاو¿نٹ کھولے گئے،پاکستان سے ہی ملزمان کے ائیر ٹکٹس خریدے گئے۔
خواجہ امتیاز احمد نے کہاکہ سازش میں کوئی بیان حلفی نہیں دیا جاتا،ملزمان برطانوی نہیں پاکستانی ہیں ، ہمارا کیس یہ ہے کہ ملزمان نے یہاں سازش تیار کی، اشتہاری ملزمان بانی متحدہ اور انور حسین کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، ملزمان کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے تھا، ملزمان جرم کے مرتکب ہوئے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔
ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ بانی متحدہ کی پا کستان میں منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا جائے،عدالت نے کہاکہ عدالت یہ حکم پہلے ہی دے چکی ہے آپ ضبط کرنےکی کارروائی شروع کریں۔عدالت نے عمران فاروق قتل کیس کا 5 سال بعد ٹرائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ 18جون تک محفوظ کرلیا

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی