ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نئے سولر انرجی (شمسی توانائی) پروجیکٹ کی منظوری دی ہے جو کہ ایک تخمینے کے مطابق لاس ویگاس کے دو لاکھ ساٹھ ہزار گھروں کو قابل تجدید توانائی فراہم کرے گا۔
 ایک ارب ڈالر کا یہ منصوبہ جب مکمل ہوجائے گا تو یہ امریکا کا سب سے بڑا اور دنیا کا آٹھواں بڑا شمسی توانائی کا پروجیکٹ ہوگا۔
 امریکی محکمہ داخلہ کے مطابق اس تین سالہ تعمیری منصوبے سے  لاس ویگاس کے شہریوں کے لیے 713 ملین ڈالر کی معاشی سرگرمیاں پیدا ہوں گی اور انہیں 900 کنسٹرکشن پر مبنی نئی ملازمتیں بھی ملیں گی، جبکہ اس کے علاوہ 1100دیگر انتظامی اور معاونت کی ملازمتیں بھی میسر آئیں گی۔
 یہ جیمنی سولر جوکہ 690 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا اور اس کے لیے سات ہزار ایک سو ایکڑ کی پبلک اراضی حاصل کی گئی ہے جو کہ لاس ویگاس شہر سے 25 میل شمال میں واقع ہے۔
 جیمنی سولر کمپنی سے جب ان 70 کچھوؤں کے  بارے میں پوچھا گیا جن کا قدرتی ماحول اس منصوبے کی وجہ سے متاثر ہوگا تو اس پر کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ تعمیرات کے دوران انہیں یہاں سے منتقل کردیں گے۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ جب تین سال بعد پروجیکٹ مکمل ہوگا تو انہیں دوبارہ ان کے قدرتی ماحول میں منتقل کردیا جائےگا۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی