رواں ہفتے کے آغازمیں10 مئی کو بنگال کی ریاست تیلنی پارہ کے ضلع ہوگلے میں اس وقت جھڑپیں پھوٹ پڑیں جب ایک مسلم آبادی کے 5 لوگوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔علاقے میں خوف کی فضا پیدا کر دی گئی اور ہندوؤں نے مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو نذر آتش کردیا۔مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کے صورتحال پر قابو پایا اور اگلے روز پھر سے وہی دنگا فساد مسلمانوں پر ظلم بن کر ٹوٹ پڑا۔
ہندوؤں کے مسلمانوں پر کورونا کو بنیاد بنا کر حملے اس وقت بڑھے جب دہلی میں اعلان کیا گیا کہ تبلیغی جماعت کے لوگ کورونا پھیلنے کا سبب ہیں۔
ہندوؤں کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ جن مسلمانوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے انہوں نے خود کو قرنطینہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔تیلینی پارہ میں جھڑپوں کے بعد دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے اور پولیس اب تک جھڑپوں میں شامل ہونے کے الزام میں 129 لوگوں کو گرفتار بھی کر چکی ہے۔
بھارتی خبرایجنسی کے مطابق جب اس علاقے میں پہنچ کر صورتحال کا اندازہ لگایا گیا تو اس وقت بھی ہزاروں کی تعداد میں ہندو سڑک پر جمع تھے جہاں سماجی فاصلے سمیت کسی احتیاطی تدبیر پرکوئی عمل پیرا نظر نہیں آیا، اور اس علاقے میں پولیس کے ہمراہ مقامی بی جے پی رہنماؤں کی موجودگی میں سڑک پر ہجوم موجود تھا
جس میں بی جے پی رہنما لوکت چترجی اور لوگوں کے مسائل سن رہے تھے جس میں بی جے پی اور ہندوتوا کے لوگ مسلمانوں پر الزام تراشیاں کررہے تھے کہ ان کہ گھروں کو جلایا گیا اوران کی دکانوں کو بھی لوٹا گیا ہے
ہجوم میں موجود لوگوں کا الزام تھا کہ مسلم اکثریتی آبادی ہے اور پولیس مسلمانوں کو گرفتار کرنے کے بجائے سکول جانے والے بچوں کو اٹھا لے گئی ہے اور ان کے کاروبار بند کرا دیئے گئے ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق مسلم آبادی میں جا کر دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ گھر سے بھی باہر نکلنے پر پابندی لگا دی گئی ہے اگر گھر سے باہر نکلیں تو آوازیں کسی جاتی ہیں کہ وہ دیکھو کورونا جا رہا ہے اس علاقے میں بسنے والے مسلم گھرانوں نے اپنے مسائل سے متعلق آگاہ کیا ان کا کہنا تھا کے گھروں میں بیت الخلا موجود نہیں اور اگرعوامی بیت الخلا میں جائیں تو ہمیں استعمال نہیں کرنے دیا جاتا اور کہا جاتا ہے کہ مسلمان کورونا پھیلانے کا باعث ہیں۔
ایک 60 سالہ مہرالنسا نامی مسلمان خاتون نے بتایا کہ بوتلوں میں پٹرول بھر کر ان کے گھروں کو جلایا گیا چھت کا ملبہ گرنے سے اس کے شوہر کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور اس کے بچے اس جھگڑے سے جان چھڑا کر بھاگ گئے ہیں اب گھر میں کچھ کھانے پینے کو بھی نہیں وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ روزہ کیسے افطار کیا جائے۔
پولیس کو پوچھنے پر ضلعی سطح کے افسر کا کہنا تھا کہ بیت الخلا عوام کی سہولت کیلئے بنائے گئے ہیں ان کے استعمال سے کسی کو کیسے روکا جا سکتا ہے بیشک اس کا تعلق کسی بھی کمیونٹی سے ہی کیوں نہ ہو۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی