چین نے خلائی تحقیق کے شعبے میں ایک اور اہم کامیابی اپنے نام کرلی ہے۔ یہ کامیابی چین کو پانچ مئی سن 2020  کی شام حاصل ہوئی۔ چین کے لانگ مارچ فائیو بی کیریئر راکٹ نے منگل کی شام صوبہ ہینان کے ون چھانگ اسپیس لانچ سنٹر سے اپنی پہلی کامیاب پرواز کی اور چین کے انسان بردار خلائی مشن کی تاریخ میں ایک اور سنہرا باب رقم کردیا ۔ شام چھ بجے پرواز بھرنے والے اس راکٹ کی لمبائی تقریباً 54میٹر ہے، اس کا قطر تقریباً پانچ میٹر ہے۔ جو 18 منزلہ عمارت کے مساوی بنتی ہے۔ اس کے ساتھ جانے والے پے لوڈ کا وزن 22 ہزار کلو تھا۔
یہ چین  کے  خلائی اسٹیشن کے مداراتی تعمیری مرحلے کے سلسلے کی پہلی خلائی پرواز ہے۔ چین کے انسان بردار خلائی انجینئرنگ کے دفتر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جی چھی منگ نے اسی  روز انکشاف کیا کہ فالو اپ کوور ماڈیول سمیت دو  مزیدتجرباتی ماڈیولز بھی لانچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چین کے اسپیس اسٹیشن کی تعمیر دو ہزار بائیس میں مکمل ہوگی اور اس سلسلے میں کل بارہ خلائی پروازوں کا منصوبہ ہے۔دوسری جانب ان خلائی مہمات کو انجام دینے والے خلابازوں کا انتخاب بھی مکمل کرلیا گیا ہے۔
جناب جی چھی منگ نے بتایا کہ خلائی اسٹیشن کے تعمیراتی مرحلے کو انجام دینے کے لئے چلائی جانے والی  چار پروازوں کے  لئے خلابازوں کا انتخاب مکمل کر لیا گیا ہے اور وہ اس سلسلے میں  تربیت حاصل کر   رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ، ریزرو خلابازوں کے تیسرے بیچ کا انتخاب بھی رواں سال کے وسط تک مکمل کرلیا جائے گا۔
اس پرواز سےچین کے نیو جنریشن انسان بردار خلائی جہاز اور کارگو ریٹرن کیپسول کے آزمائشی ورژن کو تجرباتی طور پر خلا میں بھیجا گیا ہے ۔
چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی CMSA کی جانب سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق ون چھانگ خلائی مرکز سے اس راکٹ کو بیجنگ کے مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے خلا میں چھوڑا گیا اور تقریبا 488 سیکنڈز کے بعد بغیر کسی عملے کے یہ خلائی جہاز، کارگو ریٹرن کیپسول کے ساتھ مل کر راکٹ سے علیحدہ ہوا اور کامیابی کے ساتھ مقررہ مدار میں داخل ہو گیا ۔
اس پرواز کی کامیابی کے ساتھ ہی چین کے انسان بردار خلائی پروگرام کے تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے جس میں خلائی سٹیشن کی تعمیر کی جانی ہے ۔
چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی ،ریاستی کونسل اور مرکزی فوجی کمیشن کی جانب سے پانچ مئی کو لانگ مارچ-فائیو بی کی پہلی پرواز کی کامیابی پر مبارک باد کا پیغام بھیجا گیا۔
یاد رہے کہ  چین سے اس قبل چاند کے تاریک حصے پر اترنے والا دنیا کا پہلا ملک بن چکا ہے۔ چین کے "چھانگ عہ فور"  تحقیقی مشن کے ساتھ جانے والے روبوٹ یوتو- ٹو نے جمعرات تین جنوری 2019 کی شب خلائی گاڑی سے علیحدہ ہونے کے بعد چاند کے تاریک حصے پر اتر کر ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔بیجنگ میں قائم کنٹرول روم نے بیجنگ کے مقامی وقت کے مطابق علی الصبح تین بج کر سات منٹ پر یوتو-ٹو کو چاند گاڑی سے الگ ہونے کے احکامات جاری کئے۔احکامات ملتے ہی یوتو- ٹو نے اپنے سولر پینل پھیلائے اور آہستگی سے اپنے مرکزی نظام کو حرکت دینا شروع کی تو ساتھ ہی چاند گاڑی نے اس روبوٹ کو چاند کی سطح پر اترنے کے لئے معاونت فراہم کرنے کے لئے ڈھلانی راستہ  بچھا دیا۔
اس سارے نظام کے حرکت میں آتے ہی یوتو- ٹو چاند کے تاریک حصے کا معائنہ کرنے کے لئے چاند کی سطح پر اتر گیا ۔ یوں چین کی جانب سے روانہ کیا گیا یہ مشن انسان کی جانب سے چاند کے اس حصے کی جانب پہنچنے والا پہلا مشن بن گیا۔
چین  کی یہ کامیابی محض ایک  لمحے ،دن یا سال  میں حاصل کی گئی کامیابی نہیں تھی ۔ بلکہ اس کے پیچھے ایک جہد مسلسل  کارفرما تھا۔  چین کی جانب سے چاند کے اس حصے پر پہنچنے کے لئے پہلی باقاعدہ کوشش سن 2013 میں بھیجے جانے والے مشن چھانگ عہ تھری کے ذریعے کی گئی تھی۔ چھانگ عہ تھری چین کا وہ پہلا مشن تھا جو اپنے ساتھ ایسے اجسام کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا جو چاند پر اتر کر باقاعدہ کوئی کام سر انجام دے سکیں

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی