اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے چینی انکوائری کمیشن پر مشروط حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے نیب، ایف آئی اے، ایس ای سی پی کو ملز مالکان کے خلاف کارروائی سے روک دیا اور آئندہ سماعت تک چینی 70 روپے کلو فروخت کرنے کا حکم دیدیا۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکیل نے ایگزیکٹو کے اختیارات استعمال کرنے کے حوالے سے دلائل میں کہاکہ آئین میں وفاق اور صوبوں کے اختیارات کا الگ الگ ذکر موجود ہے، فروری میں کارروائی کے لیے ایڈہاک کمیٹی بنائی گئی،کمیٹی نے وفاقی حکومت کو لکھا کہ آپ ہمیں کمیشن کردیں، کمیٹی نے وفاقی حکومت کو لکھا کہ کمیشن کو قانونی کور کیا جائے، انکوائری کمیشن نے شوگر ملز کے فرانزک آڈٹ کے لیے وفاقی حکومت کو لکھا، جیسی کمیٹی نے تجویز دی تھی ویسے ہی وہ کمیشن بن گیا، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ اس کمیشن نے پھر کیا کہا، چینی کی قیمت کیوں بڑھی، جس پر درخواست گزار وکیل نے کہاکہ کمیشن نے 324 صفحات کی رپورٹ میں بہت زیادہ وجوہات بیان کیں ہیں، کمیشن نے سفارش کی کہ ایف بی آر، ایف آئی اے، نیب کو ملزموں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ کمیشن نے کیا بتایا کہ عام صارف کے لیے چینی کی قیمت کیوں بڑھی؟ جس پر وکیل نے کہاکہ کمیشن کے مطابق شوگر بہت زیادہ موجود تھی لیکن ماحول ایسا بنایا گیا کہ شوگر کم ہے اور وہ شارٹ ہو گی، جس پر عدالت نے کہاکہ جتنی آپ کی پروڈکشن ہوتی ہے اس میں سے عام عوام کے لیے کتنا ہوتا ہے، چینی عام آدمی کی ضرورت ہے حکومت کو بھی اس حوالے سے ہی اقدامات اٹھانے چاہئیں، سادہ سی بات ہے کہ عام آدمی کا بنیادی حق ہے 30 فیصد چینی عام آدمی کے لیے ہوتی ہے، اس موقع پر ایڈووکیٹ سلیمان اکرم راجہ نے کہاکہ عام آدمی اور کمرشل استعمال کی چینی کی قیمت کو کمیشن نے الگ الگ نہیں کیا، عدالت نے کہا کہ اگر کمیشن نے عام آدمی کو چینی کی دستیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کیا پھر کیا کیا؟ حکومت کا کنسرن کمرشل ایریا تو نہیں ہونا چاہیے عوام ہونی چاہیے، مخدوم علی خان نے کہاکہ کمیشن نے عام عوام تک چینی کی دستیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کہا، جس پر عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ دو سال پہلے چینی کی قیمت کیا تھی، مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایاکہ نومبر 2018 میں چینی کی قیمت 53 روپے تھی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دو سال میں 85 روپے ہوگئی، عام عوام کو کیوں ایسے متاثر ہو رہا ہے یہ چیز کمیشن کو ایڈریس کرنی چاہیے تھی، چینی ایک غریب آدمی کی ضرورت ہے وہ ایسے فیصلوں سے کیوں متاثر ہو رہا ہے،؟ مخدوم علی خان ایڈووکیٹ نے کہاکہ کمیشن نے اپنے ٹی او آر سے باہر جاکر کارروائی کی، چیف جسٹس نے کہاکہ کمیشن نے عام آدمی کی سہولت کے لیے کوئی فائنڈنگ نہیں دی، مخدوم علی خان نے کہاکہ معاون خصوصی اور دیگر وزرا کے ذریعے ہمارا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے، جس پر عدالت نے کہاکہ گزشتہ رات بھی معاون خصوصی نے پٹیشن کے باوجود پریس کانفرنس کی، ہم حکومت کو نوٹس کرکے پوچھ لیتے ہیں لیکن آپ اس وقت تک 70 روپے کی قیمت پر چینی بیچیں، آپ کو شرط منظور ہے تو ہم آئندہ سماعت تک حکومت کو کارروائی سے بھی روک دیتے ہیں، یہ عدالت عمومی طور پر ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی، چینی ضرورت ہے ایک مزدور کی، اور وہ مشروب سبسڈی دے رہے ہیں، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ عام آدمی کو بنیادی حقوق کیوں نہیں دے رہے، اس موقع پر عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیاکہ کیا وفاق عدالت کی آپشن کی مخالفت کرے گا، جس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے کہاکہ مخالفت نہیں کریں گے، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ یہاں پر مفاد عامہ کا سوال سامنے آیا ہے، جس مقصد کے لیے کمیشن بنا تھا وہ ایڈریس ہی نہیں ہوا، کمیشن کو عام آدمی کو چینی کی سہولت فراہمی کے لیے کچھ کرنا تھا لیکن نہیں کیا، عدالت نے کہاکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن کو مشروط طور پر حکم امتناعی دے رہے ہیں۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی