دستاویزی رپورٹ بشکریہ بی بی سی نیوز

 منظر تھا ایک میدان کا جہاں ایک میل کے علاقے میں ہر طرف نیم دائرے کی شکل میں تقریباً 20 ہزار نیزے زمین میں گڑے تھے اور ہر ایک پر ایک ترک قیدی کی کٹی پھٹی لاش پروئی ہوئی تھی۔
دو سب سے اونچے نیزوں پر سلطنت عثمانیہ کے ایک علاقائی عہدیدار حمزہ پاشا اور یونانی کاتاوولینوس کی لاشیں تھیں جن کی ہلاکت کو کئی ماہ گزر چکے تھے۔ ان کے جسموں پر کسی وقت میں موجود قیمتی لباس کی باقیات ہوا میں لہرا رہی تھیں جبکہ فضا میں موجود واحد بو سڑے ہوئے انسانی گوشت کی تھی۔
یونانی مؤرخ چالکونڈائلز لکھتے ہیں کہ یہ وہ منظر ہے جس نے جون 1462 میں یورپ کی ریاست ٹرانسلوینیا کے شہر تیرگووستا سے 60 میل دور سلطنت عثمانیہ کے ساتویں سلطان محمد دوم کی فوج کے ہراول دستے کا استقبال کیا تھا۔
سلطان محمد دوم جب 17 مئی سنہ 1462 کو استنبول سے یورپ میں دریائے ڈینیوب کے پار والیچیا کی ریاست کے حکمران، شہزادے ولاد سوم ڈریکولا، کو سبق سکھانے کے لیے نکلے تھے تو کم ہی لوگوں نے سوچا ہو گا کہ اس مہم کا اس طرح کا انجام ہو گا۔
مؤرخ رادو فلوریسکو اور ریمنڈ مکینلی نے اپنی کتاب ’ڈریکولا: پرنس آف مینی فیسز، ہِز لائف اینڈ ٹائمز‘ میں یونانی مؤرخ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس منظر نے سلطان محمد پر ایسا اثر کیا کہ انھوں نے کہا ’اس طرح کے شخص سے اس کی زمین چھیننا بہت مشکل ہے۔
انھوں نے لکھا ہے کہ اس رات قیام کے لیے سلطان نے ترک کیمپ کے گرد گہری خندق کھدوائی اور اگلے روز فوج کو یہ کہتے ہوئے واپسی کا حکم دیا کہ یہ علاقہ اتنا اہم نہیں کہ اس کی اتنی قیمت دی جائے۔
والیچیا پہلے بھی سلطنت عثمانیہ کی تابع ریاست تھی جو اس مہم کے بعد بھی رہی لیکن مؤرخین کے مطابق اس کی حیثیت سلطنت عثمانیہ کے صوبے میں بدلی نہیں جا سکی۔


سلطان وہاں سے خود تو لوٹ گئے لیکن ولاد ڈریکولا کے خلاف مہم ختم نہیں ہوئی۔ وہ ڈریکولا کے بھائی رادو کو ترک فوج کے ایک حصے کے ساتھ وہیں چھوڑ آئے تھے۔

اس مہم کے نتیجے میں ڈریکولا کو اپنی ریاست چھوڑ کر فرار ہونا پڑا اور ان کی جگہ سلطنت عثمانیہ کا حامی ان کا چھوٹا بھائی رادو ’دی ہینڈسم‘ مقامی اشرافیہ اور ان طبقات کی مدد سے سے تخت پر بیٹھا جو ڈریکولا کے مظالم سے تنگ آ چکے تھے۔

مؤرخ کیرولائن فنکل نے عثمانی سلطنت کی تاریخ پر اپنی کتاب ’عثمان کا خواب‘ میں والیچیا کے خلاف کارروائی کا مختصراً ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’سلطنت عثمانیہ کی طابع ریاست والیچیا کی طرف سے سالانہ نذرانہ نہ آنے اور اس کے بعد ان کے حکمران ولاد ڈریکولا کی طرف سے اشتعال انگیز اقدامات کی وجہ سے سلطان محمد نے 1462 میں دریائے ڈینیوب پار جا کر امن و امان بحال کرنے کا حکم دیا۔ کامیاب کارروائی کے بعد ولاد کے بھائی رادول کو، جو ولاد کے اچھے رویے کی ضمانت کے طور پر استنبول میں یرغمال تھا، ولاد کی جگہ حکمران بنا دیا گیا۔ ولاد خود ہنگری فرار ہو گئے۔‘

جب سلطان نے یورپ میں یہ مہم شروع کی تھی اس سے تقریباً دس برس قبل وہ صدیوں قائم رہنے والی طاقتور بازنطینی سلطنت کی آخری نشانی قسطنطنیہ کو فتح کر کے فاتح سلطان کا لقب حاصل کر چکے تھے۔ ان کی سلطنت ایک سے زیادہ براعظموں میں پھیل چکی تھی۔ اپنے آپ کو سکندر اعظم جیسے فاتحین کی لڑی میں دیکھنے والے اس سلطان کی نظریں اب یورپ میں دور تک دیکھ رہی تھیں۔

سنہ 1462 میں اس مہم میں ان کا نشانہ سلطنت عثمانیہ کی تابع ریاست والیچیا کے حکمران ولاد ڈریکولا تھے جو مؤرخین کے مطابق تین سال سے سلطان کے سامنے نذرانہ پیش کرنے کے لیے حاضر نہیں ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ، فلوریسکو اور مکینلی جیسے مورخین لکھتے ہیں کہ قسطنطنیہ کے ساتھ ساتھ ’بلغاریہ، سربیا اور یونان کے زیادہ تر علاقوں پر قبضے کے بعد سلطان میں والیچیا کو اپنی سلطنت کا صوبہ بنانے کا خیال ایک قدرتی بات تھی اور اسی مقصد کی تکمیل کے لیے انھوں نے جرمنی سے مشرق کی طرف بہتے ہوئے کئی ملکوں سے گزر کر بحر اسود میں گرنے والے دریائے ڈینیوب کے علاقوں میں کارروائیوں کا حکم دیا تھا۔

دریائے ڈینیوب تاریخ میں مشرق سے فتح کی خواہش لے کر مغرب آنے والوں کے لیے اہم راستہ رہا ہے اور ریاست والیچیا اسی دریا کے شمالی کنارے پر واقع تھی۔ دس لاکھ سے کم آبادی والی اس ریاست کے حکمران خاندان اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان نسلوں سے کبھی اچھے کبھی برے تعلقات کا سلسلہ جاری تھا۔ فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ اب ریاست کے نئے حکمران شہزادہ ولاد سوم ڈریکولا کی پالیسیوں سے ناخوش سلطان نے اس مسئلے سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔


انھوں نے لکھا ہے کہ ڈریکولا اور فاتح سلطان محمد دوم کے درمیان جنگ ہونا طے تھی سوال صرف یہ تھا کہ کب؟ اور’(فاتح قسطنطنیہ) سلطان محمد کے ساتھ اکھٹے جوان ہونے کی وجہ سے، ڈریکولا کو سلطان میں فتوحات کی خواہش کے بارے میں اچھی طرح معلوم تھا۔‘

محمد دوم کی سلطنت کے مقابلے میں ڈریکولا کا ملک بہت چھوٹا تھا لیکن مؤرخ لکھتے ہیں کہ اس میں اپنے حکمران ہونے کا احساس سلطان محمد دوم کے مقابلے میں کسی طرح بھی کم نہیں تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ڈریکولا کا خطاب ایک اعزاز تھا۔
ایک نہیں دو ڈریکولا

آگے بڑھنے سے پہلے تذکرہ تاریخ کا جہاں دو ڈریکولا کا ذکر ملتا ہے۔ ایک وہ جس کا حالیہ دنوں میں 26 مئی کو منائے جانے والے ’ڈریکولا ڈے‘ کے حوالے سے ہر سال کی طرح ایک بار پھر دنیا بھر میں معمول سے زیادہ ذکر ہوا اور اس کی تصاویر شیئر کی گئیں۔ یہ ڈریکولا اپنے کسی شکار کی گردن میں دانت گاڑے بیٹھا ہے تو کہیں نوکیلے دانتوں سے ٹپکتے ہوئے خون کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھ رہا ہے۔

اس سلسلے کا آغاز سنہ 26 مئی 1897 میں بریم سٹوکر کے ناول کی اشاعت کے بعد ہوا جس میں خون پینے والا یہ خیالی کردار ڈریکولا متعارف ہوا تھا۔

ڈریکولا کا یہ کردار تو شاید خیالی تھا لیکن ڈریکولا نام بالکل خیالی نہیں تھا۔ تاریخ میں ڈریکولا کہلائے جانے والا شہزادہ جس نے اپنے وقت کی سپر پاور کے سلطان کا مقابلہ کیا تھا ایک طرف اپنے مظالم کی وجہ سے بدنام ہوا تو دوسری طرف اسے رومانیہ میں قومی ہیرو کا درجہ بھی دیا گیا۔

نسبتاً ایک چھوٹی سی ریاست والیچیا کا یہ شہزادہ ولاد سوم ڈریکولا کہلاتا تھا۔ ڈریکولا کا مطلب تھا ڈریکول کا بیٹا۔ اس شہزادے کی تاریخ میں وجہ شہرت ہزاروں کی تعداد میں اپنوں اور غیروں کے جسم میں میخیں گاڑ کر مارنے والے حکمران کی ہے۔ اسی وجہ سے ولاد سوم ڈریکولا کو انگریزی زبان میں ’ولاد دی امپیلر‘ بھی کہا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تاریخ بتاتی ہے کہ بچپن میں فاتح سلطان محمد دوم اور ڈریکولا کا کچھ وقت اکٹھے بھی گزرا اور اس وقت ان کے استاد بھی ایک ہی تھے۔ ایک طرف مختلف براعظموں پر پھیلی مسلمان سلطنت کا شہزادہ اور ولی عہد اور دوسری طرف یورپ میں اس سلطنت کی کئی تابع ریاستوں میں سے ایک مسیحی ریاست کے حکمران کا بیٹا۔ یہ دونوں ایک چھت کے نیچے کیسے اکٹھے ہو گئے؟ یہ ذکر آگے چل کر، پہلے ڈریکولا کہلانے والے اس شہزادے کا تعارف۔
ولاد دی امپیلر کون تھے؟

انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق دریائے ڈینیوب کے علاقے میں ایک ریاست والیچیا کے ایک سے زیادہ بار حکمران رہنے والے شہزادے ولاد دی امپیلر کا پورا نام ولاد سوم ڈریکولا تھا۔ ان کی پیدائش سنہ 1431 اور انتقال سنہ 1476 میں ہوا۔ وہ ٹرانسلوینیا میں پیدا ہوئے اور ان کا انتقال آج کے رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ کے شمال میں ایک علاقے میں ہوا۔

رومانیہ کے مؤرخ فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ ڈریکولا کا زمانہ عثمانی سلطنت میں ’دو عظیم سلطانوں‘ مراد دوم (سنہ 1421-1451) اور محمد دوم (1451-1481) کا زمانہ تھا اور انھوں نے لکھا کہ ’(قسطنطنیہ کے فاتح) سلطان محمد دوم کے ساتھ تو ہمارا نوجوان شہزادہ (ڈریکولا) بھی جوان ہوا تھا۔‘


رومانیہ کے مؤرخ لکھتے ہیں کہ یہ دونوں عثمانی سلطان انتہائی مہذب اور دنیادار شخصیات کے مالک تھے۔ ’وہ دور اندیش سیاست دان تھے جنھوں نے اس زمانے میں یہودیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو پناہ دے کر یورپ کو مذہبی رواداری کا سبق سکھایا تھا جب رومن کیتھولک چرچ ان (اقلیتوں) پر ’مظالم ڈھا رہا تھا۔‘

انسائکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق 15ویں صدی کے یورپ میں ولاد نے اپنے دشمنوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کی وجہ سے شہرت پائی۔ یہیں پر یہ بھی لکھا ہے کہ مؤرخوں کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ بریم سٹوکر کے دنیا بھر میں مشہور ناول کا ڈریکولا دراصل یہی ولاد ہے۔

ولاد کے والد ولاد دوم ڈریکول تھے۔ انھیں ڈریکول کا خطاب اس زمانے میں رومی سلطنت کے فرمانرواہ (ہولی رومن ایمپرر) سِیگیسموند کی طرف سے ترکوں کی یورپ میں یلغار کو روکنے کے لیے بنائے جانے والے ’آرڈر آف ڈریگن‘ میں شمولیت کی وجہ سے دیا گیا۔

انسائیکلوپیڈیا کے مطابق لفظ ڈریکول لاطینی زبان کے لفظ ڈراکو سے نکلا ہے جس کا مطلب ڈریگن ہے۔ اور ڈریکولا کا مطلب ہے ڈریکول کا بیٹا۔ اس طرح ولاد دوم ڈریکول کے بیٹے کا نام ہوا ولاد سوم ڈریکولا۔ مؤرخ ڈریکولا کے لقب کی مختلف وجوہات بھی بتاتے ہیں جن میں سے ایک ہے کہ رومانیہ کی زبان میں ڈریکول کا مطلب ’ڈیول‘ بھی ہوتا ہے۔

انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق ڈریکولا سنہ 1442 سے سنہ 1448 تک سلطنت عثمانیہ میں رہے اور پھر وہ اپنے والد اور بڑے بھائی کے قتل پر واپس والیچیا آئے۔ ڈریکولا کو اپنے والد کے تخت پر بیٹھنے میں والیچیا کی اشرافیہ سمیت اپنے چھوٹے بھائی کی مخالفت کا بھی سامنا تھا جنھیں سلطنت عثمانیہ کی حمایت حاصل تھی۔

وہ سنہ 1448 میں پہلی بار حکمران بنے لیکن انھیں جلد ہی ہٹا دیا گیا اور پھر انھیں اپنے والد کی گدی حاصل کرنے میں آٹھ برس کا عرصہ لگا۔ اس دوسرے دور حکمرانی میں انھوں نے وہ مظالم کیے جو ان کی شہرت کی وجہ بنے اور انھیں ولاد دی امپیلر یعنی میخیں گاڑ کر مارنے والے ولاد کا نام دیا گیا۔

یہ دور سنہ 1462 میں سلطان محمد دوم کی اس مہم کے بعد ختم ہوا جس کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے جس کو ولاد ڈریکولا کے ’ڈنڈوں سے لٹکتی لاشوں کے جنگل‘ کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ولاد سنہ 1476 میں تیسری اور آخری بار اپنے والد کی ریاست کا اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن اسی برس وہ 45 برس کی عمر میں ایک جنگ میں مارے گئے۔

ولاد سوم ڈریکولا اور فاتح سلطان محمد دوم

ان دونوں شہزادوں کی پہلی ملاقات غالباً سنہ 1442 میں اس وقت ہوئی جب ڈریکولا کے والد انھیں اور ان کے چھوٹے بھائی رادو ’دی ہینڈسم‘ کو سلطنت عثمانیہ کے ساتھ اپنی وفاداری کی ضمانت کے طور پر سلطان مراد دوم کی تحویل میں چھوڑ گئے تھے۔

مؤرخ بتاتے ہیں کہ اس وقت ولاد سوم ڈریکولا کی عمر گیارہ یا بارہ برس تھی اور چھوٹا بھائی رادو تقریباً سات سال کا تھا۔ اس وقت شہزادہ محمد بھی تقریباً ڈریکولا ہی کی عمر کے تھے۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ اس وقت تک یورپ میں سربیا اور بلغاریہ عثمانیوں کے زیر تسلط آ چکے تھے اور سلطان مراد دوم صدیوں پرانی بازنطینی سلطنت کو آخری ضرب لگانے کی تیاری میں تھے۔


ولاد دوم ڈریکول جیسا کے پہلے ذکر کیا جا چکا ہے عثمانیوں اور رومن کیتھولک چرچ کے مخالفین کے لیے بنائے گئے ’آرڈر آف ڈریگن‘ کے رکن تو بن گئے تھے لیکن فلوریسکو اور ان کے ساتھی مؤرخ مکینلی نے لکھا ہے کہ وہ ایک شاطر سیاستدان تھے اور جیسے ہی والیچیا کی ریاست کے تخت پر ان کی گرفت مضبوط ہوئی انھیں احساس ہوا کہ خطے میں طاقت کا توازن عثمانیوں کے حق میں ہے۔

مؤرخ لکھتے ہیں کہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنے سرپرست رومی سلطنت کے سلطان سیگیسموند کے انتقال کے فوراۙ بعد ولاد دوم ڈریکول نے ترکوں سے معاہدہ کر لیا۔

’ڈریکول اور ان کے 300 ساتھی برسا میں سلطان مراد کے سامنے پیش ہوئے اور ایک شاندار تقریب میں والیچیا کے شہزادے نے باقاعدہ طور پر اپنی اطاعت کا اعلان کیا۔‘

بتایا جاتا ہے کہ کچھ عرصے بعد، سلطان مراد کے دل میں (جو دونوں مؤرخین کے مطابق معاہدوں کا پاس کرنے والے حکمران تھے) ولاد دوم کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے۔ ولاد دوم طلب کیے جانے پر اپنے دو چھوٹے بیٹوں ڈریکولا اور رادو کے ساتھ سلطان کے سامنے حاضری کے لیے گئے۔ مؤرخین کے مطابق شہر کے دروازے پر ہی ترک فوجیوں نے ان کو زنجیروں میں جکڑ لیا اور دونوں بیٹوں کو ایک دور پہاڑی قلعے میں پہنچا دیا۔

ولاد دوم ڈریکول تقریباً ایک سال سلطان کے قیدی رہے اور اس دوران ان کا بڑا بیٹا میرچا جس کے سلطان سے اچھے تعلقات تھے والیچیا کے تخت پر بیٹھا۔

ڈریکول بالآخر قرآن اور بائبل پر عثمانیوں کی وفاداری کی قسم کھانے کے بعد آزاد ہوئے۔ ولاد دوم نے اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لیے اپنے دونوں چھوٹے بیٹے بھی عثمانی تحویل میں چھوڑ دیے۔

ڈریکولا عثمانی سلطان کے دربار میں

ڈریکولا کے اگلے چھ سال اپنے والدین سے دور سلطنت عثمانیہ میں گزرے۔ وہ مقامی زبان نہیں بول سکتے تھے اور ان کا مذہب بھی مختلف تھا۔ ’یقیناً انھوں نے محسوس کیا ہو گا کہ ان کے اپنے لوگوں نے انھیں اکیلا چھوڑ دیا ہے۔

ڈریکولا سنہ 1448 اور ان کے بھائی رادو سنہ 1462 تک سلطنت عثمانیہ میں رہے۔
والیچیا کے حکمرانوں کی مشکل

والیچیا کا شمار ان علاقوں میں ہوتا تھا جہاں یورپ کے برعکس تخت کا وارث صرف بڑا بیٹا نہیں ہوتا تھا بلکہ سب بیٹے اقتدار حاصل کرنے کا حق رکھتے تھے۔ اس لیے اگر ایک بیٹے کو مغرب کی بڑی طاقت رومی سلطنت یا ہنگری کے بادشاہوں کی حمایت مل جاتی تھی تو دوسرا عثمانیوں کا سہارا حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

یہی جھلک والیچیا کی ریاست کے تخت کے لیے حکمران خاندان کے مختلف افراد کی کوششوں میں نظر آتی ہے۔

فلوریسکو اور مکینلی نے لکھا ہے کہ ایک طرف ولاد کیتھولک اداروں کو نظر انداز کر کے رومی سلطنت کے حکمران سلطان سیگیسموند کو ناراض نہیں کر سکتے تھے اور انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ والیچیا کی روایات کے مطابق کسی بھی حکمران کے لیے آرتھوڈوکس مسیحی ہونا لازمی تھا۔

آرتھوڈوکس اور کیتھولک مسیحیوں میں اختلافات کی تاریخ بہت پرانی اور تلخ تھی۔ یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آرتھوڈوکس بازنطینی سلطنت کو سلطنت عثمانیہ کے خلاف لڑائی میں رومن کیتھولک یورپ سے مدد ملنا بہت مشکل پیش آئی۔

یرغمال شہزادے ولاد سوم ڈریکولا کی تربیت

عثمانی دربار میں جب چھوٹی ریاستوں کے شہزادے یرغمال بن کر آتے تھے تو اس کا ایک مقصد یہ ہوتا تھا کہ ان کو اپنا وفادار بنایا جائے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان شہزادوں کی تربیت یہ سوچ کر کی جاتی تھی کہ اگر ان میں سے کوئی مستقبل میں اپنی ریاست کا حکمران بنے تو اس کی وفاداری سلطنت عثمانیہ کے ساتھ ہو۔

ان غیر ملکی شہزادوں کے ساتھ اچھا سلوک ان کے والد کی سلطنت عثمانیہ کے ساتھ وفاداری سے مشروط تھا۔ ڈریکولا اور ان کے بھائی کے علاوہ سربیا کے دو شہزادے بھی ان دنوں سلطان کے دربار میں موجود تھے۔ ان شہزادوں کی اپنے والد کے ساتھ مشکوک خط و کتابت کی پاداش میں ان کی آنکھیں نکال دی گئی تھیں اور’یہ سب ان (دونوں شہزادوں) کی 22 سالہ خوبصورت بہن شہزادی مارا کے آنسوؤں کے باوجود ہوا جو اس وقت سلطان مراد دوم کی بیوی تھیں۔

ڈریکولا کی تربیت اس دور کے بہترین استادوں نے کی۔ مؤرخین کے مطابق ایک سے زیادہ یورپی زبانیں وہ پہلے سے جانتے تھے اور اب انھیں ترکی زبان پر بھی عبور ہو گیا تھا۔ ان کے اساتذہ میں تاریخ بتاتی ہے ’مشہور کرد فلسفی احمد گورانی بھی شامل تھے جن کو سلطنت کے ولی عہد پر بھی تربیت کے دوران کوڑا استعمال کرنے کا اختیار تھا۔

ان کو قرآن کے علاوہ، ارسطو کی منطق اور ریاضی کی تعلیم بھی دی گئی۔ فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ ڈریکولا ایک مشکل طالب علم تھا جسے اپنے غصے پر قابو نہیں رہتا تھا اور کئی بار کوڑوں کا استعمال کیا گیا۔ اس کے برعکس مؤرخین کے مطابق ان کے بھائی کو اپنی اچھی شکل و صورت کی وجہ سے دربار کے مرد اور خواتین دونوں سے بہت توجہ ملی۔ ان دونوں بھائیوں کے مختلف کردار اور ان کے ساتھ کیے جانے والے الگ الگ سلوک ان دونوں میں ایک دوسرے کے لیے شدید نفرت کی وجہ بن گئی جس کے دور رس نتائج نکلے۔

اسی دوران عثمانی ڈریکولا کے والد اور والیچیا کے حکمران ولاد دوم کی وفادری کے بارے میں پھر سے شکوک و شبہات کا شکار ہو گئے۔ دونوں شہزادوں کے سر پر تلوار لٹکنے لگی۔ تاہم ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

مؤرخین کا کہنا ہے کہ کافی عرصہ ان کا وقت اسی غیر یقینی صورتحال میں گزرا۔ فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ اس ماحول نے یقیناً ولاد ڈریکولا پر گہرا اثر چھوڑا ہو گا۔ ان مؤرخین کے مطابق انھیں ایک طرف احساس ہوا ہو گا کہ والد اور بڑے بھائی نے ان کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے اور دوسرا یہ کہ وہ کسی بھی وقت اپنے میزبانوں کے ہاتھوں قتل ہو سکتے ہیں۔

سنہ 1447 میں ولاد ڈریکولا کے والد اور بھائی یورپ کے ان علاقوں کی سیاست کا شکار ہو کر قتل ہو گئے۔ ڈریکولا اب آزاد تھے۔ انھیں عثمانی فوج میں افسر بنا دیا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ سلطنت عثمانیہ انھیں ہی والیچیا میں اپنے والد کے تخت پر دیکھنا چاہتی ہے۔ فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ سلطان مراد دوم ان سے کافی متاثر تھے۔

ولاد ڈریکولا والیچیا کے حکمران

فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ سنہ 1456 میں آسمان ایک دم دار ستارے سے روشن ہو گیا اور لوگوں نے جنگوں، وباؤں اور قدرتی آفات کی پیشیگوئی کی۔ یہ انھی دنوں کی بات ہے جب 25 سالہ ولاد ڈریکولا آٹھ سال کی طویل جد و جہد کے بعد دوسری بار اپنی خاندانی ریاست والیچیا کے تخت پر بیٹھنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ اس بار بھی ایک مہینے کے اندر ہی عثمانیوں کو ان کی وفاداری پر شک ہونے لگا تھا اور سلطان محمد کا ایک نمائندہ والیچیا روانہ کیا گیا۔ ڈریکولا نے اس وقت سلطنت عثمانیہ کی شرائط مان لیں لیکن انھوں نے اپنے والد والی غلطی نہیں دہرائی جو انھوں نے سنہ 1442 میں خود عثمانی سلطنت جا کر کی تھی۔

ولاد ڈریکولا کی ریاست بہت بڑی نہیں تھی لیکن خوبصورت پہاڑوں، گھنے جنگلوں، جھیلوں اور زرخیز میدانی علاقوں پر مشتمل تھی۔ مؤرخین کے مطابق ان کا محل جس کے آثار آج بھی موجود ہیں کئی بار ترکوں کے ہاتھوں تباہ ہوا اور پھر دوبارہ بنا۔
ولاد ڈریکولا کے مظالم/ جب پہلی بار ولاد نے کسی کو امپیل کیا
ولاد ڈریکولا کی تمام پالیسیوں کا مقصد ریاست میں طاقت اپنے ہاتھ میں لینا تھا۔ انھوں نے مغربی یورپ کی کچھ دوسری ریاستوں کی طرح ایک فوج بنانے پر توجہ دی جس کی وفاداری صرف ان کے ساتھ تھی۔

فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ ڈریکولا کہا کرتا تھا کہ جو شہزادہ گھر میں کمزور ہو وہ باہر اپنی مرضی نہیں کر سکتا اور اسی لیے پہلے دو برس انھوں نے اپنے مغربی ہمسائے ہنگری اور مشرقی ہمسائے سلطنت عثمانیہ کو خوش کرنے کی پالیسی اپنائی تاکہ اپنے گھر کے مسئلے حل کر سکیں۔

حکمرانوں کے جلدی جلدی بدلنے کی وجہ سے طاقت علاقے کی اشرافیہ کے جنھیں بویار کہتے تھے، ہاتھ میں جا چکی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سنہ 1418 کے بعد نصف صدی میں والیچیا کے حکمران 12 بار تبدیل ہوئے تھے یعنی اوسطاً ایک حکمران دو سال تخت پر بیٹھا۔

ڈریکولا کو یہ احساس تھا کہ ان کی اشرافیہ عثمانیوں کو خوش رکھنے پر یقین رکھتی تھی۔ اس کے علاوہ والیچیا کے ان سے پہلے والے حکمران کے حامی اب بھی ریاست میں موجود تھے اور ڈریکولا کے لیے ان سے اپنے بھائی میرچا کی موت کا بدلا لینا بھی باقی تھا۔

فلوریسکو اور مکینلی رومانیہ کے 17ویں صدی کے ایک مؤرخ اور یونانی مؤرخ چالکنڈائلز کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ سنہ 1457 میں جب تقریباً 200 بویار خاندان اور کچھ اہم عہدیدار ایسٹر کی تقریبات کے لیے ان کے محل میں جمع تھے تو انھیں پکڑ لیا گیا۔

ڈریکولا کے فوجیوں نے ان میں سے بڑی عمر کے افراد کو ان کے جسم میں نیچے سے میخیں گاڑ کر شہر کی دیوار کے باہر ڈنڈوں پر لٹکا دیا۔


ان خاندانوں کے صحت مند افراد کو ان کے بزرگوں کے زمانے کے ایک پرانے قلعے کے کھنڈرات کی مرمت کے لیے دور ایک پہاڑی چوٹی پر لے جا کر جبری مشقت پر لگا دیا گیا۔ اس قلعے کو قلعہ ڈریکولا کہا جاتا ہے۔

مؤرخ بتاتے ہیں کہ کسی تابع ریاست کے حکمران کے لیے اس طرح کا قلعہ بنانا دو طاقتور پڑوسیوں ہنگری اور سلطنت عثمانیہ کے احکامات کی خلاف ورزی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اسی قلعے میں ایک خفیہ راستہ تھا جس کے ذریعے سنہ 1462 میں جب ان سے اقتدار چھنا تو ڈریکولا فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔

فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ ان کے اس دور اقتدار میں علاقے کی پرانے اشرافیہ میخوں کے ذریعے یا ڈریکولا کے مشہور قلعے میں جبری مشقت سے تقریباً ختم ہو گئی تھی۔ ان کی جگہ جن لوگوں نے لی ان میں سے 90 فیصد نچلے طبقے سے آئے تھے یا وہ جو ماضی میں آزاد کسان تھے۔
دشمنوں کو نیزوں پر گاڑنے والے خصوصی اہلکار

ڈریکولا نے ’آرمازی‘ کے نام سے ایک نیا عہدہ بنایا۔ یہ آرماز صرف ڈریکولا کے حکم کے طابع تھے اور ان کا کام نئے نظام عدل پر عمل کروانا تھا۔ ان میں رومانیائی افراد کے علاوہ ہنگری، ترک، سرب، تاتار اور کچھ جپسی بھی شامل تھے۔ ’ان کی تنخواہ بہت اچھی تھی اور یہ کسی اصول کے تابع نہیں تھے۔‘

یہ ڈریکولا کی ’کلہاڑیاں‘ تھے،’نیزوں پر چڑھانے کے ماہر۔‘ لیکن فلوریسکو اور مکینلی بتاتے ہیں کہ یہ طبقہ بھی ڈریکولا سے وفاداری کے جذبے سے زیادہ اپنے مفاد کے تحت کام کرتا تھا اور جب ان کے دور کے آخری وقت میں ان کی ریاست سے لوگوں کا انخلا بڑھ گیا تو یہ آرمازی بھی کام نہ آئے۔ آرمازی کے علاوہ بھی اس دور میں کئی مسلح دستے بنائے گئے تھے۔
مؤرخ کہتے ہیں کہ ’ان کے الجھے ہوئے دماغ میں ظلم اور مذہب ایک ہو گئے تھے اور وہ کئی بار اپنے جرائم کے دفاع میں مذہب کا سہارا لیتے تھے۔

سفارتکاروں کے سروں میں کیل ٹھوکنے کا واقعہ

فلوریسکو اور مکینلی نے اپنی کتاب میں اس زمانے کی ایک جرمن شخصیت مائیکل بیہیم کا حوالہ دیا ہے جنھوں نے اٹلی کی ریاستوں سے کچھ سفیروں کی ڈریکولا کے دربار میں آمد کے ایک واقعے کا ذکر کیا تھا۔

مائیکل بیہیم نے لکھا کہ ان کی معلومات کے مطابق، ان سفارتکاروں نے ڈریکولا کے سامنے تعظیم میں اپنی بڑی ٹوپیاں تو اتاریں لیکن ان کے نیچے پہنی جانے والی ’سکل کیپ‘ سر پر رہنے دی اور کہا کہ ان کی روایت کے مطابق ’سکل کیپ‘ تو سلطان کے سامنے بھی نہیں اتاری جاتی۔

کتاب میں مزید بتایا گیا کہ ڈریکولا نے یہ سن کر ان سب کے ’سکل کیپ‘ پر ان کے سروں میں دائرے میں کیل ٹھوکنے کا حکم دیا اور اس دوران وہ ان سفیروں سے کہتے جاتے تھے کہ یقین کریں، میں تو آپ کی روایت مزید مضبوط کر رہا ہوں۔
ڈریکولا کن کے ہیرو ہیں؟

ڈریکولا نے جہاں اشرافیہ کو ختم کیا وہیں کسانوں کی مدد کی۔ انھوں نے سنہ 1459 کے بعد عثمانی سلطنت کو نذرانہ دینا بند کر دیا تھا اور اس طرح کسان اس ٹیکس سے آزاد ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ انھوں نے عثمانی فوج کے لیے 500 لڑکے دینے سے بھی انکار کر دیا۔ مؤرخ بتاتے ہیں کہ کسی تابع ریاست سے ویسے بھی لڑکے نہیں لیے جاتے تھے لیکن ان سے یہ کہا گیا۔

مؤرخ ’کہا جاتا ہے کہ ڈریکولا کے دور میں بڑے لوگ پیسے دے کر سزا سے نہیں بچ سکتے تھے جیسا کے پہلے ہوتا تھا۔۔۔۔اور اسی وجہ سے سنہ 1462 میں عثمانی حملے کے جواب میں کسانوں نے ڈریکولا کا ساتھ دیا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ وہ کسانوں کی حالت کا پتا لگانے کے لیے راتوں کو بھیس بدل کر بھی نکلتے تھے۔ فلوریسکو اور مکینلی کی کتاب میں رومانیہ کی لوک کہانیوں میں سے ایک قصہ درج ہے کہ ایک بار ایک کسان کو چھوٹے سائز کے کپڑے پہنے دیکھ کر ڈریکولا نے اس کی بیوی کو کاہلی کے الزام میں وہیں اس میں نیچے سے میخ گاڑ کر موت کی سزا دے دی۔

کسان نے بہت منت سماجت کی کہ وہ اس عورت کے ساتھ خوش ہے لیکن ڈریکولا نے کہا کہ اس کے بعد جو بیوی ملے گی وہ اسے اور بھی خوش رکھے گی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے دور میں شادی سے پہلے سیکس کرنے والی اور شادی کے بعد خاوند کے علاوہ کسی دوسرے کے ساتھ سیکس کرنے والی عورتوں کو انتہائی سخت سزائیں دی گئیں۔

رومانیہ میں قصے مشہور ہیں کہ کس طرح ایک بار انھوں نے بھکاریوں کے ایک گروہ کی اچھی طرح تواضع کرنے کے بعد ان سب کو اسی کمرے میں زندہ جلا دیا تھا کہ یہ لوگ دوسروں کی محنت پر جینا چاہتے ہیں۔

سلطان محمد دوم کی ڈریکولا کے خلاف مہم

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ ڈریکولا نے سنہ 1459 کے بعد سلطنت عثمانیہ کو نذرانہ دینا بند کر دیا تھا اور اس کے علاوہ بھی سلطنت کے مطابق ’اشتعال انگیز‘ کارروائیوں میں ملوث رہے۔

سلطنت عثمانیہ اور ڈریکولا کے درمیان رابطے بھی ہوئے لیکن اس دوران ڈریکولا کے ہاتھوں دو اعلیٰ عثمانی اہلکار ہلاک ہو گئے اور انھوں نے ترکی زبان پر عبور کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عثمانی قبضے میں ایک قلعے کا دروازہ کھلوا کر اسے جلا دیا اور پھر باقاعدہ جنگ چھڑ گئی۔
ڈریکولا نے مذہب کے نام پر یورپ کی دیگر طاقتوں سے مدد بھی طلب کی لیکن کچھ معاملوں میں مقامی حالات اور کچھ میں آرتھوڈوکس اور کیتھولک مسیحیوں میں تاریخی اختلافات کی وجہ سے انھیں کچھ زیادہ اچھا رد عمل نہیں ملا، لیکن مؤرخ لکھتے ہیں کہ اس بات نے انھیں سلطنت عثمانیہ کے مقابلے سے باز نہیں رکھا۔
انھوں نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف پورے علاقے میں چھوٹی چھوٹی گوریلا کارروائیوں کا آغاز کر دیا جبکہ سلطان خود اس وقت ایشیا میں جنگی مہمات میں شریک تھے۔
تاریخ میں ڈریکولا کی جانب سے انھی دنوں میں پوپ کے نام لکھے گئے ایک خط کا ذکر آتا ہے کہ ’ ہم نے 23،884 ترک اور بلغار ہلاک کر دیے اور ان میں وہ شامل نہیں جنھیں ان کے گھروں میں جلا دیا گیا یا جن کے سر ہمارے فوجیوں نے نہیں کاٹے۔

مؤرخ بتاتے ہیں کہ ڈریکولا کے ہاتھوں ہلاکتوں اور نقصان کا ذکر سن کر سلطان خود 17 مئی 1462 کو والیچیا فتح کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔ ڈریکولا نے جلد از جلد یورپ سے مدد کا مطالبہ کیا کہ اگر انھیں شکست ہو گئی تو یہ تمام مسیحیوں کے لیے خطرناک ہو گا۔ لیکن مؤرخ لکھتے ہیں کہ انھیں متوقع مدد نہیں ملی۔

فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ سنہ 1462 میں گرمی انتہائی شدید تھی۔ ڈریکولا نے تمام آبادی پہاڑوں، جنگلوں اور دلدلی علاقے میں بھیج دی تھی۔ عثمانی فوج کو کئی دن کے سفر کے بعد لڑائی کا موقع نہیں ملا اور پیاس کا مسئلہ الگ تھا۔ اس نے گوریلا حملوں سے بھی ترکوں کا بہت نقصان کیا۔

انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ڈریکولا نے سلطان کو ہلاک کرنے کی نیت سے ایک رات ان کے کیمپ پر اچانک حملہ بھی کیا جو ناکام رہا۔ بالآخر جب سلطان کی فوج ڈریکولا کے دارالحکومت کے قریب پہنچی تو انھوں نے وہ منظر دیکھا جس کا تاریخ میں سب سے زیادہ ذکر آتا ہے۔ ’ایک نیم دائرے کی شکل میں ایک میل تک ہزاروں ڈنڈے زمین میں گڑے تھے اور ان پر تقریباً 20 ہزار ترک فوجیوں کی گلی سڑی لاشیں تھی

فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ سلطان محمد دوم اگلے روز واپس لوٹ گئے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ڈریکولا جنگ جیت گئے۔ سلطان اس وقت ڈریکولا کے بھائی رادو دی ہینڈسم کو کچھ ترک فوج کے ساتھ وہیں چھوڑ آئے تاکہ وہ مقامی لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر اور اشرافیہ کی حمایت سے اپنے بھائی کی جگہ تخت پر بیٹھ جائیں۔ ’اس کے بدلے میں ترکوں نے ریاست کی روایتی خودمختار حیثیت کی ضمانت دی۔‘
انھوں نے کتاب میں لکھا ہے کہ مقامی آبادی نے ڈریکولا کے ظالمانہ نظام پر رادو کو ترجیح دی جس کی حمایت کے بدلے میں عثمانیوں نے وعدہ کیا کہ زبردستی فوج میں لڑکوں کی بھرتی بھی بند ہو جائے گی۔

ڈریکولا کا فرار

ڈریکولا نے فرار ہو کر ہنگری کے بادشاہ سے حمایت طلب کی لیکن انھوں نے ان کے بھائی رادو کی حمایت کا اعلان کر دیا اور سلطان محمد سے پانچ سال کا معاہدہ کر لیا۔ ڈریکولا اب طاقتور شہزادے نہیں تھے بلکہ ان کے پاس صرف ماضی کے کارناموں کا ذکر تھا۔
ہنگری کے بادشاہ نے اپنی تمام سرحدوں پر سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ڈریکولا کو گرفتار کر لیا۔
لیکن یورپ میں ڈریکولا کی گرفتاری کے خلاف ایک لہر دوڑ گئی کیونکہ چند ماہ پہلے ہی تو وہ سلطان محمد دوم کا مقابلہ کرنے اور ان کے مطابق ’شکست دینے‘ کی وجہ سے سب کے ہیرو بنے تھے۔
ہنگری کے بادشاہ نے بظاہر ڈریکولا کی طرف سے سلطان محمد کے نام کچھ خط پیش کر کے ان کی گرفتاری کی وجہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ جرمن علاقوں میں لوگ ابھی ان کے دور کے مظالم نہیں بھولے تھے۔
فلوریسکو اور مکینلی بتاتے ہیں کہ ڈریکولا کا درجہ کسی عام قیدی کا نہیں تھا بلکہ ایک عرصے کے بعد وہ ہنگری کے دربار میں بھی بیٹھنے لگے تھے۔ کئی بار ہنگری کے بادشاہ نے سوچ سمجھ کر انھیں عثمانی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے دوران دربار میں بٹھایا۔ وہ 12 برس تک ہنگری میں اسی طرح قید رہے۔
فلوریسکو اور مکینلی نے اپنی کتاب میں اس زمانے کے کچھ اہلکاروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ ڈریکولا جیل میں جانور منگوا کر ان پر اپنے قیدیوں کو ماضی میں دی گئی سزاؤں کے طریقے آزماتے تھے۔

ڈریکولا کی آخری لڑائی اور ہلاکت

دریں اثنا ڈریکولا کے بھائی رادو کے ہاتھ سے والیچیا کی ریاست نکل گئی اور ان کا سنہ 1475 میں انتقال ہو گیا۔ ہنگری نے بھی اس موقع پر ڈریکولا کو دوبارہ تخت پر بٹھانے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔
ڈریکولا نے ہنگری کے بادشاہ کے ساتھ بوسنیا میں ترکوں کے خلاف پھر سے کئی مہمات میں حصہ لیا اور کامیابیاں حاصل کی۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ ہنگری کے بادشاہ متھیئس نے ان سے آرتھوڈوکس مذہب چھوڑ کر کیتھولک مذہب اختیار کرنے کا وعدہ لیا اور ان کے تیسری بار والیچیا کا حکمران بننے کی حمایت کر دی۔

ڈریکولا نومبر 1476 میں آخری بار تخت نشین ہوئے اور اگلے ہی مہینے دسمبر میں لڑائی میں ترکوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ تاہم ان کے آخری لمحات کے بارے میں بھی بہت مختلف آرا ہیں۔
نیزوں پر گڑی انسانی لاشوں کا میدان: تاریخ اور ولاد سوم ڈریکولا

مؤرخ ماتئی کزاکو اپنی کتاب ’ڈریکولا‘ میں سنہ 1463 میں چار سے چھ صفحات پر مشتمل ایک کتابچے کا ذکر کرتے ہیں جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ ویانا میں شائع ہوا تھا اور اس کا عنوان تھا ’ووئیوود ڈریکولا کی تاریخ‘۔ کزاکو کہتے ہیں کہ اس کتابچے کے گمنام مصنف کے مطابق ڈریکولا تاریخ کا سب سے زیادہ تشدد کرنے والا اور ظالم حکمران تھا۔
’صرف اپنے ہی لوگوں پر نہیں بلکہ دوسروں مثلاً یہودیوں، مسیحیوں، ترکوں، جرمنوں، اطالویوں پیگن لوگوں پر بھی کیے گئے مظالم متاثر کیے بغیر نہیں رہتے۔
انھوں نے اس کتابچے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ڈریکولا نے انسانی جسم میں نیزے گاڑ کر مارنے کی سزا کو مزید تکلیف دہ بنایا۔ وہ تیز نوک کی بجائے نیزے کا منہ گول ہی رکھتے تھے اور ان کو زمین میں گاڑ کر انسانوں کو اس کے اوپر بٹھا دیتے اور اس طرح انسانی وزن کے دباؤ میں نیزہ آہستہ آہستہ جسم میں دھنستا چلا جاتا اور اس کی جان نکلنے میں دو سے تین دن لگتے۔ ’اس دوران ان کے پورے ہوش میں کوے ان کی آنکھیں بھی نکال دیتے۔

کزاکو لکھتے ہیں کہ اس زمانے کی ایک اور تصنیف میں ذکر ہے کہ ڈریکولا نے اپنی کھڑکی کے سامنے زمین میں گڑے ایسے نیزوں کا تین کلومیٹر لمبا اور ایک کلومیٹر چوڑا ایک جنگل بنا رکھا تھا۔ ’اعلیٰ ترک عہدیداروں اور پاشاؤں کے لیے زیادہ اونچے نیزے تھے۔
کزاکو لکھتے ہیں کہ تاریخ کے بڑے بڑے ظالموں کو بھی ذہن میں رکھیں تو بھی ڈریکولا کے بارے میں لکھی گئی باتیں غیر معمولی ہیں۔
تاہم اسی کتاب کے تعارف میں ایک اور کتابچے کا بھی ذکر ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ یہ سنہ 1486 کے آخر میں روس میں تقسیم ہوا تھا۔ ’ہمارے علم کے مطابق یہ کبھی پرنٹ نہیں ہوا لیکن اس کی ہاتھ سے لکھی گئی کم سے کم 22 کاپیاں تھیں۔ ’یہاں ڈریکولا کو ایک سخت لیکن عدل پسند حکمران کے طور پر پیش کیا گیا ہے، ایک ایسا سمجھدار اور مہذب حکمران جو اپنے ملک کو ترکوں سے محفوظ رکھنے میں کوشاں ہے۔
کتاب کے تعارف میں لکھا ہے کہ ولاد سوم کو لاطینی، جرمن، روسی اور بلقان کی تصانیف میں ایک ظالم حکمران کے طور پر پیش کیا گیا اور ان سب نے اپنی اپنی نظریاتی اور سیاسی ضروریات کے تحت ان کی تصویر کشی کی اور ہمیں اس کو پرکھنے کی ضرورت ہے۔
ڈریکولا کے اپنے علاقے والیچیا کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہاں وقت کے ساتھ ساتھ ولاد سوم کو بھلا دیا گیا تھا۔ ان کا ذکر دوبارہ، ہمیں بتایا گیا ہے، 19ویں صدی میں جرمن، روسی اور ہنگری کے مؤرخین کی طرف سے پرانے کتابچے اور تحریروں کی صورت میں منظر عام پر آیا۔
رومانیہ کے مؤرخوں کے لیے اہم سوال یہ تھا کہ ایک طرف انتہائی ظالم شہزادے کا روپ تھا اور دوسری طرف ایک ایسے شخص کا جس نے سلطنت عثمانیہ کے فاتح سلطان محمد دوم کا مقابلہ کرنے میں انتہائی جرات کا مظاہرہ کیا تھا۔ ’کیا کیا جائے؟ بالآخر ڈریکولا یعنی ولاد سوم کو رومانیہ (جو 1918 میں والیچیا، مالڈوویا اور ٹرانسلوینیا کے ملاپ سے جدید ریاست کے طور پر سامنے آیا) کے دفاع کے لیے خدمات کے عوض قومی ہیرو تسلیم کر لیا گیا۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی