دستاویزی رپورٹ بشکریہ بی بی سی نیوز

ظہیر الدین بابر کو اچھی طرح احساس تھا کہ اس کی فوج دشمن کے مقابلے پر آٹھ گنا کم ہے، اس لیے اس نے ایک ایسی چال چلی جو ابراہیم لودھی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔
اس نے پانی پت کے میدان میں عثمانی ترکوں کا جنگی حربہ استعمال کرتے ہوئے چمڑے کے رسوں سے سات سو بیل گاڑیاں ایک ساتھ باندھ دیں۔ ان کے پیچھے اس کے توپچی اور بندوق بردار آڑ لیے ہوئے تھے۔ اس زمانے میں توپوں کا نشانہ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوا کرتا تھا لیکن جب انھوں نے اندھا دھند گولہ باری شروع کی تو کان پھاڑ دینے والے دھماکوں اور بدبودار دھویں نے افغان فوج کو حواس باختہ کر دیا اور اس ناگہانی آفت سے گھبرا کر جس کا جدھر منھ اٹھا، ادھر کو بھاگ کھڑا ہوا۔

عثمانی تحفہ

یہ پانی پت کی پہلی لڑائی تھی اور اس کے دوران ہندوستان میں پہلی بار کسی جنگ میں بارود استعمال کیا گیا۔
50 ہزار سپاہیوں کے علاوہ ابراہیم لودھی کے پاس ایک ہزار جنگی ہاتھی بھی تھے لیکن سپاہیوں کی طرح انھوں نے بھی کبھی توپوں کے دھماکے نہیں سنے تھے، اس لیے پورس کے ہاتھیوں کی تاریخ دہراتے ہوئے وہ جنگ میں حصہ لینے کی بجائے دم دبا کر یوں بھاگ کھڑے ہوئے کہ الٹا لودھی کی صفیں تتر بتر کر دیں۔
بابر کے 12 ہزار تربیت یافتہ گھڑسوار اسی لمحے کا انتظار کر رہے تھے، انھوں نے برق رفتاری سے پیش قدمی کرتے ہوئے لودھی کی فوج کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور کچھ ہی دیر بعد بابر کی فتح مکمل ہو گئی۔
مورخ پال کے ڈیوس نے اپنی کتاب ’100 فیصلہ کن جنگیں‘ میں اس جنگ کو تاریخ کی سب سے فیصلہ کن جنگوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
یہ عظیم الشان مغلیہ سلطنت کا لمحۂ آغاز تھا۔
عثمانی جنگی حربے کے علاوہ اس فتح میں دو ترک توپچیوں استاد علی اور مصطفیٰ نے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ انھیں ایک اور عظیم سلطنت یعنی سلطنتِ عثمانیہ کے پہلے خلیفہ سلیم اول نے بابر کو بطور تحفہ عنایت کیا تھا۔
دنیا کی عظیم ترین سلطنتوں میں سے ایک سلطنتِ عثمانیہ کی داغ بیل عثمان غازی نے 13ویں صدی میں ڈالی تھی۔
اس زمانے میں بازنطینی سلطنت آخری سانسیں لے رہی تھی اور اناطولیہ متعدد چھوٹی چھوٹی ریاستوں اور راجواڑوں میں بٹا ہوا تھا۔ 1254 میں پیدا ہونے والے عثمان غازی ان میں سے ایک چھوٹی سی ریاست سوغوت کے ترک سردار تھے۔ تاہم انھوں نے ایک دن ایک ایسا خواب دیکھا جس نے تاریخ کا رخ موڑ کر رکھ دیا۔

عثمان کا خواب

برطانوی مورخ کیرولین فنکل نے اپنی کتاب ’عثمان کا خواب‘ میں لکھا ہے کہ ایک رات عثمان ایک بزرگ شیخ ادیبالی کے گھر میں سو رہے تھے کہ انھوں نے ایک خواب دیکھا کہ ان کے سینے سے ایک درخت اگ کر ساری دنیا پر سایہ ڈال رہا ہے۔ انھوں نے جب شیخ کو خواب سنایا تو انھوں نے کہا: ’'عثمان، میرے بیٹے، مبارک ہو، خدا نے شاہی تخت تمھارے اور تمھاری اولاد کے حوالے کر دیا ہے۔‘
اس خواب نے عثمان غازی کے لیے مہمیز کا کام کیا کیوں کہ وہ سمجھنے لگے کہ اب انھیں خداوندی تائید حاصل ہو گئی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے آس پاس کی سلجوق اور ترکمان ریاستوں، اور بالآخر بازنطینیوں کو پے در پے شکستیں دے کر اناطولیہ کے بڑے حصے پر اپنا جھنڈا گاڑ دیا۔
یہی خواب بعد میں چھ صدیوں تک راج کرنے والی سلطنتِ عثمانیہ کا بنیادی جواز اور اسطورہ بن گیا جس کے سائے میں انھوں نے نہ صرف اناطولیہ بلکہ تین براعظموں کے بڑے حصوں پر صدیوں تک حکومت کی۔
عثمان کے جانشینوں نے جلد ہی اپنی نظریں یورپ پر جما دیں۔ 1326 میں انھوں نے یونان کا دوسرا بڑا شہر تھیسالونیکی فتح کر لیا، جب کہ 1389 میں وہ سربیا پر قابض ہو گئے۔ لیکن ان کی تاریخ ساز کامیابی 1453 میں بازنطینی دارالحکومت قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کی فتح تھی۔
مسلمان پچھلے سات سو برسوں سے اس شہر پر قبضہ کرنے کی کوششیں کرتے چلے آئے تھے لیکن اس کا جغرافیہ کچھ ایسا تھا کہ وہ ہر بار ناکام رہے۔
قسطنطنیہ کو تین طرف سے بحیرۂ باسفورس نے گھیرے میں لیا ہوا ہے جو اس کے لیے شہر پناہ کا کام کرتا ہے۔ بازنطینیوں نے گولڈن ہورن کو زنجیریں لگا کر بند کر رکھا تھا جب کہ دوسری جانب ان کے 28 جنگی جہاز پہرے پر مامور تھے۔
22 اپریل 1453 کو عثمانی سلطان محمد فاتح نے ایک ایسی چال چلی جو کسی کے سان و گمان میں بھی نہ تھی۔ انھوں نے خشکی پر تختوں کی شاہراہ تیار کی اور اس پر تیل اور گھی ڈال کر اسے خوب پھسلواں بنا دیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے 80 بحری جہاز اس راستے پر مویشیوں کی مدد سے گھسیٹ کر دوسری طرف پہنچا دیے اور شہر کے حیرت زدہ محافظوں پر آسانی سے قابو پا لیا۔
محمد فاتح نے اپنا دارالحکومت قسطنطنیہ منتقل کر کے اپنے لیے قیصرِ روم کا خطاب اختیار کیا۔

پہلا عثمانی خلیفہ

فاتح کے پوتے سلیم اول کی نظریں کہیں اور تھیں۔ انھوں نے 1516 اور 1517 میں مصر کے مملوکوں کو شکست دے کر مصر کے علاوہ موجودہ عراق، شام، فلسطین، اردن، اور سب سے بڑھ کر حجاز پر قبضہ کر کے اپنی سلطنت کا رقبہ دگنا کر دیا۔
اس کے ساتھ ہی آج سے ٹھیک پانچ سو سال قبل حجاز کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ حاصل کرنے کے ساتھ ہی سلیم اول مسلمان دنیا کے سب سے طاقتور حکمران بن گئے۔ عام تصور کے مطابق 1517 ہی سے عثمانی خلافت کا آغاز ہوا، اور سلیم اول کو پہلا خلیفہ قرار دیا جاتا ہے، جب کہ ان سے پہلے عثمانی ’سلطان‘ یا ’پادشاہ‘ کہلاتے تھے۔
سلیم اول کو عام طور پر پہلا عثمانی خلیفہ تصور کیا جاتا ہے
مولانا ابو الکلام آزاد اپنی کتاب 'مسئلۂ خلافت' میں لکھتے ہیں: سلطان سلیم خان اول کے عہد سے لے کر آج تک بلا نزاع سلاطینِ عثمانیہ ترک تمام مسلمانان عالم کے خلیفہ و امام ہیں۔ ان چار صدیوں کے اندر ایک مدعی خلافت بھی ان کے مقابلہ میں نہیں اٹھا۔ حکومت کے دعوے دار سینکڑوں اٹھے ہوں، مگر اسلام کی مرکزی خلافت کا دعویٰ کوئی نہ کر سکا۔'
مختصر عرصے میں یکے بعد دیگرے کامیابیاں حاصل کرنے کے دوران سلیم اول کا سب سے موثر جنگی ہتھکنڈا وہی تھا جو
دس سال بعد ظہیر الدین بابر نے پانی پت میں آزمایا تھا، یعنی بارود۔

ہمایوں بنام خلیفہ

بابر کے جانشین ہمایون کو عثمانیوں کا یہ احسان یاد رہا۔ وہ سلیم اول کے بیٹے سلمان عالیشان کو ایک خط میں لکھتے ہیں
رتبۂ خلافت پر فائز عالی جناب، فلکِ عظمت کے ستون، اسلام کی بنیادوں کے رکھوالے سلطان کے لیے نیک تمنائیں۔ آپ کا نام مہرِ جاہ و منزلت پر کھدا ہوا ہے اور آپ کے دور میں خلافت نئی بلندیوں تک پہنچ گئی ہے۔ اللہ کرے کہ آپ کی خلافت جاری و ساری رہے۔
ہمایون کے بیٹے اکبر نے عثمانیوں کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم کرنے کی کوشش نہیں کی، جس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ عثمانی ایران کے صفوی حکمرانوں کے ساتھ مسلسل حالتِ جنگ میں تھے اور اکبر صفویوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ البتہ ان کے جانشینوں شاہجہان اور اورنگ زیب عالمگیر کے عثمانی سلاطین کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ ان کے درمیان تحائف اور سفارتی وفود کا تبادلہ عام تھا اور وہ انھیں تمام مسلمانوں کا خلیفہ مانتے تھے۔
صرف مغل نہیں بلکہ دوسرے ہندوستانی حکمران بھی عثمانیوں کو اپنا خلیفہ سمجھتے تھے اور اقتدار میں آنے کے بعد ان سے بیعت لینا ضروری سمجھتے تھے۔
ٹیپو سلطان نے میسور کا حکمران بننے کے بعد ایک خصوصی وفد قسطنطنیہ بھیجا تھا تاکہ اس وقت کے عثمانی خلیفہ سلیم سوم سے اپنی حکمرانی کی تائید حاصل کر سکیں۔ سلیم سوم نے ٹپیو سلطان کو اپنے نام کا سکہ ڈھالنے اور جمعے کے خطبے میں اپنا نام پڑھوانے کی اجازت دی۔ یہ الگ بات کہ انھوں نے ٹیپو کی طرف سے انگریزوں کے خلاف لڑنے کے لیے فوجی امداد کی درخواست قبول نہیں کی، کیوں کہ اس وقت وہ خود روسیوں سے برسرِ پیکار تھے اور اس دوران وہ طاقتور انگریزوں کی دشمنی مول نہیں لے سکتے تھے۔

عثمانیوں نے ابتدا ہی میں یورپ کے کئی علاقے فتح کر لیے تھے۔ سلمان عالیشان (جن کے نام پر بننے والی ٹیلی ویژن سیریز 'میرا سلطان' پاکستان میں بہت مقبول ہوئی تھی) کے دور میں سلطنت اپنے فوجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی عروج پر پہنچ گئی۔ سلمان نے بلغراد اور ہنگری فتح کر کے اپنی سرحدیں وسطی یورپ تک پھیلا دیں۔
تاہم دو بار کوشش کے باوجود سلمان عالیشان آسٹریا کے شہر ویانا کو فتح نہیں کر سکے

یورپ آگے نکل گیا

یہ یورپ میں 'ایج آف ڈسکوری' یعنی دریافتوں کا دور تھا اور سپین، پرتگال، نیدرلینڈز اور برطانوی بحری بیڑے دنیا بھر کے سمندر کھنگال رہے تھے۔ براعظم امریکہ کی دریافت اور اس پر قبضے سے یورپ کو بقیہ دنیا پر واضح برتری حاصل ہو گئی اور انھوں نے جگہ جگہ اپنی نوآبادیاں قائم کرنا شروع کر دیں۔
16ویں اور 17ویں صدیوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں یورپ نے بقیہ دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ جہاز رانی کی صنعت کے فروغ کی وجہ سے انھیں جہاز رانی کے لیے نت نئے آلات ایجاد کرنے اور انھیں بہتر بنانے کی ضرورت تھی جس نے سائنس اور ٹیکنالوجی دونوں کو فروغ دیا۔
دوسری چیز چھاپہ خانہ تھی، جس کی 1439 میں ایجاد کے بعد یورپ میں علمی اور فکری انقلاب بپا ہو گیا۔ وہ علوم و فنون جن پر اس سے پہلے صرف اشرافیہ اور کلیسا کا اجارہ تھا، اب عام آدمی کی دسترس میں آ گئے۔

اگر عثمانی بھی پرنٹنگ پریس سے استفادہ شروع کر دیتے تو شاید آج دنیا کی تاریخ مختلف ہوتی۔ لیکن سلطان فاتح کے بیٹے بایزید دوم نے 1483 میں عربی رسم الخط میں کتابیں چھاپنے والوں کے لیے موت کی سزا مقرر کر دی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ علما نے چھاپہ خانے کو فرنگیوں کی ایجاد کہہ کر فتویٰ دیا تھا کہ اس فرنگی ایجاد پر قرآن یا عربی رسم الخط میں کتابیں چھاپنا مذہب کے خلاف ہے۔
چنانچہ یورپ آگے بڑھتا چلا گیا، عثمانی سلطنت سال بہ سال سکڑتی چلی گئی حتیٰ کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران انگریزوں نے ان سے اناطولیہ کے علاوہ تقریباً تمام علاقے چھین لیے۔
ہندوستان کے مسلمانوں کو اس کا بڑا دکھ ہوا کیوں کہ وہ عثمانی خلیفہ کو اپنا مذہبی حکمران اور رہنما سمجھتے تھے۔ انھوں نے 1919 میں مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی کی قیادت میں تحریکِ خلافت شروع کی جس میں انگریزوں کو دھمکی دی گئی کہ اگر انھوں نے خلیفہ عبدالحمید کو معزول کرنے کی کوشش کی تو ہندوستانی مسلمان ان کے خلاف بغاوت کر دیں گے۔ اس تحریک میں عطا اللہ شاہ بخاری، حسرت موہانی، مولانا ابوالکلام آزاد، ظفر علی خان، مولانا محمود الحسن اور حکیم اجمل خان جیسے رہنما بھی شامل ہو گئے۔

  انڈین نیشنل کانگریس نے بھی تحریکِ خلافت کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ مہاتما گاندھی کی عدم تشدد پر مبنی سول نافرمانی کی مہم تحریکِ خلافت ہی کے بطن سے پھوٹی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح نے خود کو اس تحریک سے الگ تھلگ رکھا کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ کامیاب نہیں ہو سکے گی۔
اس سے پہلے یہ تحریک مزید زور پکڑتی، 1922 میں کمال اتاترک کی قیادت میں قوم پرست طاقتوں نے ملک کا اقتدار سنبھال کر خلیفہ عبدالحمید کو معزول اور خلافت کے منصب کو ختم کر دیا، اور یوں 623 برس تک شان و شوکت سے راج کرنے والی اس عظیم سلطنت کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔
ہندوستانی مسلمان عوام نے انتہائی جوش و جذبے سے تحریکِ خلافت میں حصہ لیا۔ مولانا سیدابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں: 'جنھوں نے 1921-22 کا زمانہ نہیں دیکھا، ان کو کیا بتایا جائے کہ اس وقت ہندستان کس طرح کوہ آتش فشاں بنا ہوا تھا، اتحادیوں کی فتح سلطنت عثمانیہ کے خلاف ان کے منصوبوں اور خلافت کو ختم کردینے کی کوشش کی خبر نے سارے ہندوستان میں آگ لگا رکھی تھی، مسجدوں، مجلسوں، مدرسوں، گھروں، دکانوں اور خلوت و جلوت، کہیں گویا اس گفتگو کے سوا کوئی گفتگو نہ تھی۔'

اس دوران ہر بڑے چھوٹے بوڑھے بچے اور مرد و عورت کی زبان پر یہ شعر تھا
بولیں اماں محمد علی کی / جان بیٹا خلافت پہ دے دو
عوام نے تحریک کی کامیابی کے لیے دل کھول کر چندہ دیا۔ ہندوستان کے طول و عرض سے عورتوں تک نے اپنے ہاتھوں کی چوڑیاں اور کانوں سے بُندے اتار کر خلافت کمیٹیوں کی نذر کر دیے۔
روایت مشہور ہے کہ ایک عورت اپنا بچہ لے آئی اور یہ کہہ کر خلافت کمیٹی کے حوالے کر دیا کہ میرے پاس چندے میں دینے کے لیے اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔
یہ تحریک تو کامیاب نہیں ہو سکی، لیکن ترکی کے عوام کو یہ جذبہ آج بھی یاد ہے۔ جو لوگ ترکی گئے ہیں وہ یہی کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں پاکستانیوں کی جتنی عزت ترکی میں ہوتی ہے، وہ کسی اور ملک میں نہیں ہوتی۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی