دستاویزی رپورٹ بشکریہ بی بی سی نیوز


قتل کرنے کے پیسے ملتے ہیں ہر قتل پر۔ بالکل ویسے ہی جیسے آپ کو قتل لکھنے کے پیسے ملتے ہیں۔ ہم کسی اور کی وجہ سے پیسے کماتے ہیں اور آپ ہم جیسوں کی وجہ سے، بس اتنا سا فرق ہے

وہ سپاٹ لہجے میں بغیر کسی جھجک اور خوف کے مجھ سے بات کر رہا تھا۔ اس کی گود میں رکھی ہوئی مہنگی اور جدید ترین بندوق چمک رہی تھی مگرآنکھیں بےنور تھیں۔
چمکتی بندوق اور بےنور آنکھوں جیسا یہ تضاد آپ کو اس کہانی کی ہر ہر سطر میں ملے گا۔
اُس کے چاروں جانب کھڑے اس کے مسلح ساتھی خاموش تھے اور وہ بولے جا رہا تھا۔ ’پانی پیئیں گے؟‘ اس کے اچانک سوال سے مجھے اندازہ ہوا کہ شاید اسے میرے چہرے کے تاثرات سے کوئی غلط فہمی ہو رہی ہے۔
’نہیں‘۔ اسے جواب دیتے ہوئے مجھے لگا جیسے میرا لہجہ بھی جذبات سے عاری تھا۔
’اب تو روزانہ ہی، ایک نہیں بلکہ قتل کی کئی کئی وارداتیں لکھ لکھ کر اور تم جیسے لوگوں سے روز ملتے رہنے سے میں بھی شاید اس قتل و غارت اور مارا ماری کا عادی ہو گیا ہوں‘۔

میں نے اپنے تاثرات پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے اسے مطمئن کرنا چاہا۔
مجھے نہیں پتا کہ اس نے میری بات کا یقین کیا بھی تھا یا نہیں مگر مجھے اس کی کہی ہوئی ہر بات پر یقین تھا۔ وہ جو کہہ رہا تھا سب سچ تھا۔
وہ اور اس جیسے نوجوان پیشہ ور قاتل ان دنوں لیاری کی ہر گلی میں بہت آسانی سے ڈھونڈ لینا ہم کرائم رپورٹرز کے لیے بہت آسانی سے ممکن تھا مگر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ہر ادارے کے لیے نہ جانے کیوں انھیں ڈھونڈ لینا بہت مشکل بلکہ ’ناممکن‘ تھا۔
عجیب بات یہ تھی کہ اس سے رابطے کے لیے مدد بھی ایک پولیس اہلکار نے کی تھی۔
ہو سکتا ہے کہ یہ کہانی اور اس کی ہر بات آپ کو بھی بالکل کی کسی ’ایکشن تھرلر‘ فلم کی طرح عجیب لگے جیسے کہ لیاری کا محل وقوع۔
کروڑں ڈالرز کی تجارت کرنے والی کراچی کی بندرگاہ۔ اس بندرگاہ کی ایک جانب محض ایک سڑک (مولوی تمیز الدین خان روڈ) عبور کر لی جائے تو شہر کی امیر ترین آبادی کے مہنگے تفریحی مقامات۔
بوٹ بیسن، بیچ لگژری ہوٹل، نیا امریکی سفارتخانہ یہاں تک کے سابق وزیراعظم بے نظیر بھّٹو، ان کے شریک حیات اور سابق صدر آصف زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول بھّٹو کی رہائش گاہ ’بلاول ہاؤس‘ کی عمارات دکھائی دینے لگتی ہیں۔

اور اسی بندرگاہ کے ’جناح برج‘ کی دوسری طرف، غربت کے نطفے سے بیروزگاری کی کوکھ میں جنم لینے والے ’جرائم‘ کا گڑھ لیاری ہے۔
وہ لیاری جہاں کراچی کی سب سے قدیم مگر انتہائی غریب درجنوں آبادیوں کا طویل سلسلہ ہے اور جسے جرائم کی سلطنت بھی کہا جاتا رہا ہے۔
یہ علاقہ فٹبال، باکسنگ اور مارشل آرٹس جیسے کھیلوں کے لیے مشہور ہے تو وہیں منشیات، اسلحہ، غیر قانونی تجارت یا سمگلنگ کا شہر میں سب سے بڑا اور بدنام مرکز بھی ہے
کراچی کی سیاست میں بھی متحرک اور فعال نظر آنے والا یہ علاقہ جہاں گذشتہ انتخابات میں تحریک لبیک کو شہر میں سب سے زیادہ ووٹ دینے والا علاقہ تھا تو ماضی میں ملک کی سب سے روشن خیال سمجھی جانے والی وزیراعظم بے نظیر بھّٹو کا حلقۂ انتخاب بھی رہ چکا ہے۔
اسی لیاری کے علاقوں کلاکوٹ اور چاکیواڑہ کے درمیان سے گزرتی نیو کمہارواڑہ روڈ سے جڑی ایسی ہی کسی تنگ سی گلی میں (جسے بھارتی شاعر گلزار پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاں قرار دیتے ہیں) وہ نوجوان پیشہ ور قاتل درمیانی رابطے (یعنی پولیس افسر) کے ذریعے مجھ سے ملاقات اور گفتگو پر راضی ہوا تھا۔
ان دنوں جس صحافی کو بھی سنسنی خیز کہانیوں کی تلاش ہوتی تھی اسے لیاری ضرور جانا پڑتا تھا۔
ملاقات میں اس نے اپنا نام اعظم بتایا تھا۔ مجھے بھی آپ کی طرح یقین ہے کہ یہ ایک فرضی نام تھا مگر جو تفصیلات اس شخص نے بتائیں وہ قطعاً فرضی نہیں تھیں۔
وہ ان دنوں کے لیاری کی گلی گلی کی کہانی تھی۔ یہ رحمان بلوچ کا لیاری تھا۔ چاہے آپ سردار عبدالرحمان بلوچ کہیں یا رحمان ڈکیت۔
پولیس افسران، قانونی و سرکاری دستاویزات، اہل علاقہ اور شہر کے سیاسی رہنماؤں کی بات مانیں تو اس رحمان بلوچ کا لیاری جس نے خود اپنی ماں کو قتل کیا اور اس کے باپ کو مار ڈالا مخالف بابو ڈکیت گروہ کے ان لوگوں نے جو منشیات، بھتّے، اغوا برائے تاوان اور اس جیسے ہر جرم کے دھندے میں کوئی مخالفت برداشت نہیں کرتے۔

وہ رحمان بلوچ جس نے پاکستان کی مقتول وزیراعظم بے نظیر بھّٹو پر کراچی میں 18 اکتوبر 2007 کو ہونے والے حملے کے بعد اُنھیں اُن کی ذاتی رہائش گاہ بلاول ہاؤس تک بحفاظت پہنچانے کی ’ذمہ داری‘ نبھائی۔
آپ پوچھ سکتے ہیں کہ کیا ایک ایسا شخص جسے کچھ لوگ مسیحا اور سماجی رہنما کہتے اور سمجھتے ہوں اور کچھ حلقے غریب علاقے کا جرائم پیشہ منشیات فروش مانتے ہوں ، اس قدر طاقتور تھاکہ سابق وزیراعظم کو اپنی حفاظت کے لئے اس کی مدد درکار تھی؟
پاکستان، خصوصاً کراچی کے مخصوص حالات میں اس کا جواب ہے، جی ہاں۔
مگر ہماری کہانی لیاری کی کہانی ہے۔ رحمان بلوچ کے ’گینگ‘ کی کہانی بلکہ لیاری گینگ وار کی کہانی۔ ایک نہیں بلکہ کئی نسلوں کے درمیان طاقت کے حصول کے لیے بےرحم کشمکش کی کہانی۔
علاقہ گیری کی اُس ہوس کا قصّہ جس میں جگری دوستوں کے ہاتھوں ایک دوسرے کے خاندان قتل ہوئے، بھائی جیسے ساتھیوں نے ایک دوسرے کے سر کاٹ ڈالے، ساتھ کھانا کھاتے دوستوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور بچپن کے پڑوسیوں نے ایک دوسرے کی لاشیں تک انتقام کی آگ میں جلا ڈالیں۔
نسلوں سے نسلوں کو منتقل ہونے والے جرم کے اس دھندے کے تاریخی پس منظر کو کھنگالاجائے تو کئی کتابیں لکھنی پڑیں گی مگر لیاری گینگ وار کی اِس کہانی کو آپ تک پہنچانے کےلئے اُس تاریخ سے گریز کرنا پڑے گا۔ اور بات کہانی کے ڈرامائی موڑ سے شروع کی جا سکتی ہے۔
تو یہ ڈرامائی موڑ آیا کب ؟
یہ بتایا پیشہ ورانہ زندگی کا بیشتر حصّہ لیاری میں گزارنے والے پولیس افسر اور 2008 میں لیاری میں سپرٹنڈنٹ پولیس تعینات رہنے والے فیاض خان نے۔
’یہ موڑ تب آیا جب لیاری کے علاقے کلاکوٹ کی افشانی گلی کے دو بھائیوں شیر محمد (شیرو) اور داد محمد (دادل، رحمان بلوچ کے والد) نے منشیات کے کاروبار کو پھیلانے اور طاقت حاصل کرنے کے لیے اپنا گروہ منظّم کرنا شروع کیا۔
’دوسری جانب منشیات ہی کے کاروبار سے منسلک اقبال عرف بابو ڈکیت کا گروہ بھی اسی لیاری کے علاقے کلری اور آس پاس کے محلّوں میں فعال تھا۔ پھر لیاری جیسی بڑی آبادی کا کون سا علاقہ کس کے پاس ہو گا اور کس محلّے میں چرس اور افیون جیسی منشیات کا کاروبار کس کے قبضے میں ہو گا، یہ رسّہ کشی دشمنی کا رنگ اختیار کرتی چلی گئی۔‘

فیاض خان کے مطابق اسی زمانے میں حاجی لالو اپنے چھ سات بیٹوں کے ساتھ جن میں ارشد پپّو اور یاسر عرفات بھی شامل تھے ایک مضبوط گروہ چلا رہا تھا۔
’حاجی لالو جہان آباد میں شیر شاہ قبرستان کے علاقے میں اپنا پتھاریداری ،منشیات اور بھتّے کا وہ کاروبار چلاتا تھا جو آگے چل کر اغوا برائے تاوان کے منافع بخش دھندے سے جُڑ گیا‘۔
اندھے منافع کی اس جنگ میں شامل تمام فریقوں کے دشمن تو بےحساب شمار تھے مگر دوست صرف ایک تھا اور وہ تھا پیسہ۔
فیاض خان کا کہنا تھا کہ ’اسی پیسے اور طاقت کے حصول کی رسّہ کشی جلد ہی مسلح تصادم میں ڈھلی اور رحمان بلوچ کا باپ دادل، بابو ڈکیت کے ہاتھوں مارا گیا اور دادل کی موت کے بعد رحمان بلوچ کو حاجی لالو نے اپنی سرپرستی میں لے لیا‘۔
یہیں سے طاقتور، دلیر اور خطروں کا کھلاڑی رحمان بلوچ بےرحمی اور قتل و غارت کے راستے کا ایسا مسافر بنا جس نے پہلے تو اپنی ماں کو ناجائز تعلقات کے شبہے میں خود گولی مار کر قتل کیا اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
قتل و غارت اور غنڈہ گردی کا بازار گرم کر دینے والے رحمان نے ایک روز بابو ڈکیت کو بھی مار کر اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب رحمان بلوچ کا شمار لیاری میں جرم و سزا اور قتل و غارت گری کے ناخداؤں میں ہونے لگا تھا۔
حاجی لالو کے گروہ میں رحمان بلوچ اور حاجی لالو کے بیٹے ارشد پپّو اور یاسر عرفات نے مل کر جرم کی سلطنت کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ رحمان اور حاجی لالو کا تعلق اس قدر گہرا تھا کہ حاجی لالو کے بیٹے یاسر عرفات اور رحمان دونوں کی شادی گولیمار کے سیٹھ یوسف کی بیٹیوں سے ہوئی۔
تصویر کے کاپی رائٹAFP
مگر جلد ہی کاروباری حسد اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کھینچا تانی میں ایک روز رحمان کی کھٹ پٹ حاجی لالو اور اس کے بیٹوں سے ہی ہو گئی۔
رحمان کو اندازہ ہوگیا کہ حاجی لالو کے زیر اثر رہتے ہوئے جرم کی اس دنیا میں وہ اپنا الگ مقام نہیں بنا سکتا۔
اپنے ہی گروہ میں محاذ آرائی کے اس ماحول میں رحمان ایک روز کھلے عام لالو کی مخالفت پر اتر آیا اور اسی گرما گرمی نے لالو اور رحمان کی راہیں الگ کر دیں۔
فیاض خان کے مطابق محاذ آرائی کے اس رویّے نے دشمنی کی شکل اختیار کی تو لالو کے بیٹے ارشد پپّو نے کلاکوٹ میں رحمان کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی۔ قسمت کا دھنی رحمان بچ تو نکلا مگر ارشد پپّو کے غیض کا رخ اس کے رشتہ داروں کی جانب ہوا اور ارشد پپّو کے ہاتھوں رحمان کے رشتہ دار مارے جانے لگے۔
ادھر رحمان نے بچی کھچی طاقت مجتمع کرکے جواباً ارشد پپّو کے رشتہ داروں پر حملوں کا آغاز کیا جن میں بلوچ اتحاد کے رہنما اور لیاری کی معروف شخصیت انور بھائی جان جیسے ممتاز لوگ بھی مارے گئے۔
اسی ’جنگ‘ میں ارشد پپّو نے ایک دن بہت ہی فلمی انداز میں حب چوکی کے پاس رحمان کے چاچا کو قتل کیا۔ فیاض خان کے مطابق ’پپّو نے قتل سے پہلے فون پر رحمان کو بتایا کہ سُن، میں اس کو مار رہا ہوں، سُن اور پھر اس نے رحمان کے چاچا کو قتل کر دیا۔‘
اسی دوران ارشد پپّو اور اس کے باپ حاجی لالو کے گروہ نے چن چن کر رحمان کے کاروباری مفادات کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا۔
فیاض خان کا کہنا تھا ’رحمان کو لیاری چھوڑ کر بلوچستان جانا پڑا اور تب تک واپس نہیں آ سکا جب تک ارشد پپّو میرے ہاتھوں گرفتار ہو کر جیل نہیں چلا گیا۔ پھر رحمٰن لیاری واپس آیا۔‘
کراچی میں تعینات رہنے والے ایک اعلیٰ مگر (اب) سابق پولیس افسر نے نام خفیہ رکھنے کی درخواست پر کہانی آگے سناتے ہوئے کہا ’اب لیاری گینگ وار نے ایک ایسی انگڑائی لی جس نے اس علاقے کو عالمی توجہ خاص کر ذرائع ابلاغ کا چٹپٹا موضوع بنا دیا۔‘

ان کے مطابق فیض محمد (فیضو) نامی ایک ٹرانسپورٹر جو دراصل چاکیواڑہ کے علاقے سنگو لین کی جھٹ پٹ مارکیٹ کے قریب بلوچستان جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے ایک بس اڈے کا ٹائم کیپر تھا، رحمان اور پولیس دونوں کا ہی ’بِیٹر‘ تھا یعنی بس مالکان سے بھتّہ وصول کر کے رقم رحمان اور پولیس کے مقامی لوگوں تک پہنچاتا تھا۔
’وہ رحمٰن کا قریبی اور خاص آدمی تھا اور عرصے سے اس کے لیے بھّتہ وصولی کرتا تھا۔ ارشد پپّو نے فیضو سے کہا کہ اب بھتہ رحمان کو نہیں ہمیں دینا ہو گا۔ انکار اور مخالفت پر اس کا بھی وہی انجام ہوا جو لیاری جیسے علاقے میں ارشد پپّو یا رحمان کے مخالفین کا ہوتا رہا تھا۔
ارشد پپّو نے فیضو کو اغوا کر کے قتل کردیا اور یہ فیضو عزیر بلوچ کا باپ تھا۔ اسی عزیر بلوچ کا جو شاید لیاری کی تاریخ کا سب مشہور نام بنا۔
لیاری میں جرم و سزا کی دنیا کا عالمی شہرت یافتہ کردار عزیر بلوچ جسے حال ہی میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق فوجی عدالت نے جاسوسی کے جرم میں 12 برس قید کی سزا بھی سنائی ہے۔
پولیس افسر کا کہنا تھا ’ عزیر اپنی زندگی کے آغاز پر جرم و سزا کی اس دنیا سے بالکل الگ تھلگ رہا۔ وہ لیاری جنرل ہاسپٹل میں وارڈ بوائے کی ملازمت کرتا تھا اور عزیر کا باپ تو اسے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) میں فٹبالر کی حیثیت سے ملازمت دلوانا چاہتا تھا۔‘
سابق ایس پی لیاری فیاض خان کا بھی یہی کہنا ہے کہ عزیر بہت سمجھدار تھا۔
’عزیر تو میرے پاس بھی آتا تھا اور باقی سب سے بھی دوستی رکھتا تھا۔ کسی کو پولیس تنگ کررہی ہو یا کسی کو بدمعاش و جرائم پیشہ عناصر، عزیر سب کی مدد کرتا تھا اور سب کے کام آتا تھا۔ وہ سب سے بنا کر رکھتا تھا۔‘
مشترکہ دشمن ارشد پپّو کے ہاتھوں عزیر کے باپ کے قتل کے بعد رحمان نے عزیر کو بالکل ویسے ہی اپنی سرپرستی میں لے لیا جیسے کبھی حاجی لالو نے خود رحمان کی سرپرستی کی تھی۔
لیاری کے ایک دیرینہ مکین اور بزرگ سماجی شخصیت نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 18 اکتوبر 2007 کو جب کراچی کے علاقے کارساز کے قریب بےنظیر بھٹّو کے قافلے پر بم حملہ ہوا اور 140 سے زیادہ لوگ مارے گئے تو یہ رحمان بلوچ ہی تھا جو اس وقت بےنظیر بھٹّو کو بحفاظت کلفٹن میں واقع ان کی رہائش گاہ بلاول ہاؤس پہنچا سکتا تھا اور پہنچایا بھی اسی نے۔‘
مگر پھر وہ وقت بھی آیا کہ رحمان بلوچ اور پیپلز پارٹی کے تعلقات میں دراڑیں پڑ گئیں۔
کراچی پولیس کے ایک سابق افسر کے مطابق لیاری پر رحمان کی گرفت اس قدر مضبوط ہوئی کہ اس نے بالآخر لیاری کی سیاسی وارث سمجھی جانے والی جماعت اور ملک کی حکمران رہنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی دھکیلنا شروع کر دیا۔

کون کونسلر بنے گا اور کون ضلعی ناظم یہ فیصلے بھی رحمان بلوچ کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتے تھے۔
لیکن لیاری کی اردو آرٹس یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت کے سابق سربراہ اور پھر کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ ابلاغ عامہ میں برسوں تک سینکڑوں صحافیوں کو تعلیم دینے والے پروفیسر (ریٹائرڈ) توصیف احمد کا کہنا ہے کہ لیاری گینگ وار کے پس پردہ حقائق کچھ اور تھے۔
’جو مارا ماری آپ نے لیاری میں دیکھی اس کے آغاز کا سرا آپ کو یہاں نہیں ملے گا، سرا ڈھونڈنے کے لیے آپ کو بلوچستان جانا پڑے گا۔‘
پروفیسر توصیف احمد کا موقف ہے کہ لیاری سے کوسوں دور بلوچستان کی قوم پرستانہ تحریک کو لیاری سے علیحدہ رکھنے کے لیے ملک کی ہمیشہ اور اصلی حاکم ریاست اور اس کے اداروں نے لیاری میں سیاست سے جرم کی بیخ کنی کر دینے کی بجائے ہمیشہ یہ موقع دیا کہ جرم سیاست پر غالب رہے۔
’1973 میں بلوچستان میں جب فوجی کارروائی کا آغاز ہوا تو ڈر تھا کہ لیاری کہیں بلوچ مزاحمتی تحریک کا مرکز نہ بن جائے تو لیاری کو علیحدہ رکھنے کے لیے ریاست کے کرتا دھرتاؤں نے اسے جرم کی بھٹّی میں دھکیل دیا۔
فوج نے لیاری کو گینگ وار کے حوالے کیا اور پیپلز پارٹی اس میں شریک ہو گئی۔ پیپلزپارٹی سیاسی وارث تھی لیاری کی۔ انھوں نے جدوجہد کا راستہ اختیار نہیں کیا آسان راستہ اختیار کیا۔ انھوں نے مختلف ادوار میں ان گینگسٹرز کی سرپرستی کی۔ نتیجے میں خود پیپلز پارٹی کا بھی بہت بڑا نقصان ہوا یہاں تک کہ سیاست بھی جرائم پیشہ عناصر کی محتاج دکھائی دی۔
مگر لیاری سے پیپلز پارٹی کے رہنما، سابق وزیر مملکت پورٹس اینڈ شپنگ اور مختلف ادوارمیں لیاری اور عزیز آباد سے رکن صوبائی اور قومی اسمبلی رہنے والے معروف سیاستدان نبیل گبول کا موقف بالکل مختلف تھا۔
ہماری ایجنسیز (خفیہ اداروں) کی جانب سے کوئی مدد مجھے کبھی نظر نہیں آئی۔ (گینگ وار لارڈز کو) جو سپورٹ ملی، وہ سندھ حکومت اور ہوم ڈپارٹمنٹ (صوبائی محکمۂ داخلہ) کی جانب سے ملتی تھی۔ لیاری کے لوگ پاکستان پرست ہیں وہاں قوم پرست بہت کم تعداد میں ہیں۔
لیاری کے بزرگ مکین نے بھی پروفیسر توصیف کی بات کی توثیق کی۔
’ایک وقت یہ آیا کہ پیپلز پارٹی نے ٹکٹ دیے، بلدیاتی الیکشن میں اپنے امیدوار کھڑے کئے مگر پیپلز پارٹی ہار گئی تھی اور رحمان کے حمایت یافتہ وہ تمام امیدوار جیت گئے جن کی وابستگی تو کسی زمانے میں پیپلز پارٹی سے رہی تھی مگر وہ الیکشن رحمان کی مدد اور حمایت سے جیتے۔‘
پیپلز امن کمیٹی کے نامور رہنما اور عزیر بلوچ گینگ کا سیاسی چہرہ سمجھے جانے والے حبیب جان بلوچ بھی پروفیسر توصیف کی اس رائے سے قطعاً متفق نہیں۔
’ایسا نہیں تھا۔ بلوچستان کے لوگوں نے کبھی لیاری کے لوگوں پر انحصار نہیں کیا بلکہ انھوں نے تو اپنے لوگوں پر بھی انحصار نہیں کیا۔ لیاری کو تو سب نے نظرانداز کیا۔

’بینک اور مالیاتی ادارے تو لیاری کا پتہ دیکھ کر لوگوں کے اکاؤنٹ کھولنے میں ہچکچاتے تھے۔ بےنظیر بھٹّو کے دور میں جب فرسٹ ویمن بینک قائم ہوا تو حد یہ ہوئی کہ اس کی لیاری شاخ کا دفتر لیاری سے میلوں دور بہادرآباد میں قائم کیا گیا۔ کبھی کسی بینک نے لیاری کے لوگوں کو کریڈٹ کارڈ تک جاری نہیں کیا تو پھر جب آپ مسلسل لیاری کے لوگوں کو نظر انداز کرتے رہے تو لیاری کے لوگوں نے اپنی بقا کا فیصلہ خود کیا۔‘
حبیب جان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ’مال بردار گاڑیوں کا اغوا اور دیگر طریقوں سے بھتّہ لینے کا دھندہ تو کچھّی رابطہ کمیٹی چلا رہی تھی، ایم کیو ایم کی سرپرستی میں اور نام آ رہا تھا لیاری گینگ وار کا۔
’لیاری گینگ وار کو گینگ وار کا نام بھی الطاف حسین نے دیا تھا اور یہی گینگ وار ان کے خلاف ایک مضبوط دیوار ثابت ہوئی۔‘
متحدہ قومی موومنٹ (جو اس وقت تک الطاف حسین کی قیادت میں متحد تھی ، اور اب ایم کیو ایم لندن کہلاتی ہے) کے سیکریٹری اطلاعات مصطفیٰ عزیز آبادی حبیب جان بلوچ کے الزامات اور لیاری کے واقعات سے ایم کیو ایم کے کسی بھی طرح کے تعلق سے مکمل طورپر انکار کرتے ہیں۔
’یہ تو پاکستان بننے سے پہلے سے ہی منشیات فروشوں کا نسل در نسل چلنے والا دشمنی کا سلسلہ تھا۔ ہمارا تو کبھی کوئی سلسلہ تھا ہی نہیں کبھی اس سب سے۔‘
لیاری سے جن سیاسی لوگوں کو بے دخل ہونا پڑا ان میں پیپلز پارٹی کے نبیل گبول بھی شامل تھے۔ لیاری کے بزرگ مکین نے بتایا ’رحمان نے نبیل گبول کو علاقہ بدر کر رکھا تھا۔‘
ادھر نبیل گبول کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے صورتحال بگڑتے دیکھی تو میں نے انھیں (گینگ وار لارڈز) کو تنبیہ کی کہ 14 روز میں خود کو حکام کے حوالے کریں اور وہ تیار ہو بھی گئے تھے۔ میں ان کے نمائندوں کو لے کر صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے پاس گیا اور ذوالفقار مرزا بھی تیار ہو گئے مگر بعد میں دو دن کے اندر اندر پوری لیاری میں خود میرے ہی خلاف وال چاکنگ ہوگئی تو میں سمجھ گیا کہ ذوالفقار مرزا نے معاملات میں ردّو بدل کر دیا۔ ذوالفقار مرزانے عزیر سے کہا کہ تم لوگ نبیل کی باتوں میں نہیں آنا بلکہ میرے لیے کام کرو۔‘
نبیل گبول کا دعویٰ اپنی جگہ مگر اُدھر لیاری میں جرم اور سیاست دونوں ہی پر رحمان اور عزیر بلوچ کا دائرۂ اثر بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔

اس موضوع پر گفتگو کرنے والے کئی اہلیانِ لیاری نے کڑیاں جوڑتے ہوئے بتایا کہ ’یہ وہ وقت تھا جب پیپلز پارٹی کو بھی اندازہ ہوا کہ رحمان کی موجودگی میں لیاری ان کے سیاسی قلعے کے طور پر برقرار نہیں رہ سکتا تو پیپلز پارٹی میں بھی رحمان کے ’بوجھ‘ سے جان چھڑانے کی سوچ نے گھر کرنا شروع کیا۔
’پیپلز پارٹی اور رحمان میں یہی بڑھتے ہوئے فاصلے جواز بنے کہ ریاستی اداروں کو رحمان اور گینگ وار کے دیگر کرداروں کے خلاف کارروائی کا موقع ملے۔‘
سابق ایس پی لیاری فیاض خان بتاتے ہیں ’ارشد پپّو کو تو میں نے پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا اور وہ جیل پہنچ چکا تھا مگر پورے ’سسٹم‘ نے طاقت کی اس جنگ میں ایک بار پھر فیصلہ کیا کہ اپنی عملداری کا اظہار کیا جائے۔
’پولیس اور نیم فوجی ادارے رینجرز کے حکام ، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی مدد سے سرگرم ہوئے اور رحمان بلوچ پولیس مقابلے میں چوہدری اسلم کے ہاتھوں مارا گیا‘۔
اس ’متنازع‘ مقابلے میں ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ کے طور پر مشہور چوہدری اسلم کے ہاتھوں رحمان کے مارے جانے کے بارے میں سرکاری طور پر پولیس کا موقف وہی تھا جو ایس پی فیاض نے بیان کیا مگر کہنے والوں نے اور بہت کچھ کہا۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ ’رحمان تھا تو بلوچستان کے علاقے وندر میں مگر پولیس مقابلے کا مقام بنا کراچی کا علاقہ گلستان جوہر۔‘
پولیس مقابلے کے حقائق کچھ بھی ہوں مگر رحمان کی ہلاکت کے بعد اس کے گینگ نے عزیر بلوچ کو سردار بنانے کا فیصلہ کیا۔
لیاری کے بزرگ رہائشی نے بتایا کہ اس فیصلے کی وجہ یہ تھی کہ عزیر رحمان کی برادری اور قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اور اس وقت تک ’رحمان اور عزیر جرم و سزا اور سیاست دونوں کے لیے مختلف علاقوں میں مختلف ’وار لارڈز‘ یا علاقائی سردار مقرر کر چکے تھے اور گروہ خوب پھل پھول چکا تھا۔
’عزیر نے گروہ کی سربراہی سنبھالی تو مارا ماری کا کام بابا لاڈلا کی سربراہی میں دیگر نمائندوں سرداروں کے سپرد ہوا۔
کچھ علاقے اور اختیارات استاد تاجو کے سپرد ہوئے اور رحمان کے گروہ کے تمام سرداروں نے ایک طرح سے عزیر کی بیعت کر لی۔‘
ایس پی فیاض خان نے بتایا کہ عزیر کو اندازہ ہوگیا کہ طاقت اسی کے ہاتھ میں ہوتی ہے جس کے ہاتھ میں بندوق ہو۔
’یہ بات صحیح ہے‘۔ بزرگ مکین نے بھی تائید کی۔ ’عزیر کو پتا تھا کہ صرف سیاست سے طاقت اس کے ہاتھ میں نہیں رہے گی۔ بےنظیر کے بعد بلاول بھٹّو اور آصف زرداری سے بڑا تو کوئی سیاستدان نہیں تھا لیاری میں۔ جب بندوق کے سامنے ان کی کوئی نہیں سنتا تھا تو صرف سیاست کرتے ہوئے تو عزیر کی بھی کوئی نہیں سنے گا‘۔
یہی وجہ رہی کہ عزیر نے گروہ کے تمام جنگجو سرداروں کو ایک ایک کر کے بدلنا شروع کیا۔ جب پیپلز پارٹی سے رحمان اور عزیر کی دوریاں بڑھی تھیں تو عزیر کے حمایتی اور رحمان کے قریبی ساتھیوں نے پیپلز امن کمیٹی کی بنیاد بھی رکھ دی تھی۔
پیپلز پارٹی کے سابق رہنما اور لیاری کی ممتاز شخصیت حبیب جان بلوچ پیپلز امن کمیٹی کی پہچان بھی بنے اور عزیر بلوچ کا سیاسی چہرہ بھی سمجھے جاتے رہے۔

’لیاری میں طاقت جمع کرتے ہوئے عزیر بلوچ نے اپنے لوگوں کو آگے بڑھانے کے لیے نئے مقامی سرداروں کی تعیناتی شروع کی۔ نیا آباد کے علاقے میں اپنے وفادار وسیع لاکھو کو کمانڈر بنایا، بادشاہ خان کے بیٹے وسیم اور شکیل کو دریا آباد میں مقرر کیا۔ استاد تاجو کو آگے بڑھایا، فیصل پٹھان کو بہار کالونی میں لگایا۔‘
ایس پی (ر) فیاض خان کے مطابق ’بابا لاڈلا کو محسوس ہوا کہ عزیر اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے تو اس نے اپنے ہی سردار یعنی عزیر بلوچ اور اس کے مقرر کردہ سرداروں کی مخالفت کا راستہ چنا۔‘
اہلیان لیاری بتاتے ہیں کہ عزیز بلوچ کے مقامی کمانڈر بھی بابا لاڈلا سے ڈرتے تھے کیونکہ وہ ظالم بھی بہت تھا۔ یہی وقت تھا جب شہر کی بڑی سیاسی قوت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے عسکری حلقے اور عزیر کے درمیان علاقہ گیری کی جنگ میں تیزی آ رہی تھی۔
عزیر کا گروہ پاؤں پھیلا کر ان علاقوں سے بھتّہ خوری شروع کر چکا تھا جہاں ایم کیو ایم کو سیاسی برتری یا اکثریت حاصل تھی۔
لیاری کی سرحدوں سے جڑے علاقوں پلازہ ، تبت سینٹر، صدر، آرام باغ، گارڈن، پاک کالونی، نشتر روڈ اور دیگر کئی علاقوں میں لیاری گینگ وار کے کارندے کھلے بندوں بھتّے کی پرچیاں بازاروں میں بانٹ رہے تھے۔
پھر ان علاقوں میں بلوچوں کے خلاف تشدد میں تیزی آئی اور رنچھوڑ لائن سمیت کئی علاقوں میں بلوچوں کی لاشیں ملنے لگیں۔
دوسری جانب نشتر روڈ اور دھوبی گھاٹ جیسے علاقوں میں مسافر بس سے لوگوں کو زبان کی بنیاد پر شناخت کر کے اتارے جانے اور اغوا اور بدترین تشدد کر کے قتل کر دینے کی وارداتیں شروع ہوئیں۔
پیپلز امن کمیٹی کے رہنما اور عزیر بلوچ کے قریب سمجھے جانے والے حبیب جان بلوچ نے کہا کہ ’مظالم بڑھنے لگے اور بلوچوں کو لیاری کے باہر دیگر علاقوں میں مارا جانے لگا۔ کسی دن تین بلوچ قتل ہوتے تو کسی دن سات اور یہ ہو رہا تھا جوڑیا بازار، آرام باغ، اکبرروڈ کے علاقوں میں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عزیر بلوچ لیاری کا متفقہ لیڈر بن چکا تھا اور اہلیان لیاری نے متفقہ طور پر اسے سردار کا خطاب دے دیا تھا۔ ہر مرنے والے بلوچ کی ماں وزیراعلیٰ کے گھر نہیں جاتی تھی بلکہ عزیر کے گھر کے باہر پہنچ کر فریاد کرتی تھی۔‘
ایم کیو ایم لندن کے سیکریٹری اطلاعات مصطفیٰ عزیز آبادی نے پھر ان الزامات کی تردید کی۔ ’ہمارا اس سب سے کوئی لینا دینا نہیں تھا‘۔

انھوں نے اس کا ذمہ دار پیپلز پارٹی کو قرار دیا ’یہ تو جب 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت آئی ہے تو آصف زرداری کے چہیتے ذوالفقار مرزا نے کیا۔ جب پیپلز امن کمیٹی بنائی گئی اور جو شہر کے تاجروں اور دکانداروں کے ساتھ ہوا۔ اغوا برائے تاوان اور بھتّہ اور انھوں (گینگ وار لارڈز) نے خود قبولا کہ کس نے اسلحہ دیا۔ پھر شیر شاہ مارکیٹ کا سانحہ ہوا۔ دکانداروں کو بھتّے کی پرچیاں دی گئیں اور ہیسے مانگے گئے۔ وہ بےچارے دے دے کر تنگ آ گئے تھے کہ بھئی کتنا دیں آخر ہم۔ پھر باقاعدہ دکانداروں کا قتل عام ہوا اور جب ملزم پکڑے گئے تو وزیر داخلہ نے چھڑوا دیا انہیں۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ ان واقعات پر ان کے احتجاج اور مذمت کو ایسا رنگ دے دیا گیا کہ ’جیسے ہمارا اور گینگ وار کا کوئی تصادم چل رہا ہے۔ ہمارا ان سے کیا لینا دینا۔ اس (گینگ وار کو) پیپلز پارٹی نے پالا پوسا اور مدد دی۔‘
انھوں نے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ جب جرائم پیشہ افراد نے ایم کیو ایم کے زیر اثر علاقوں میں بھتّے کی وصولی شروع کی اور ایم کیو ایم مخالف عناصر (ایم کیو ایم حقیقی سے تعلق رکھنے والے جرائم پیشہ افراد) کے ساتھ ان کا اتحاد ہوا تو ایم کیو ایم کی طرف سے بھی جوابی کارروائیاں کی گئیں۔ ’ہمارا گینگ وار سے کبھی کسی قسم کا جھگڑا تھا نہ تصادم ہوا۔ ہم نے غنڈہ گردی پر ایوان میں احتجاج کیا اور بس۔‘
شہر میں لیاری کے علاوہ بلوچ آبادیوں میں رحمان کی جگہ سردار بننے والے عزیر بلوچ نے اپنی طاقت مضبوط کرنی شروع کی اور ملیر سے مواچھ گوٹھ تک، لیاقت آباد، بلوچ پاڑہ سے خاموش کالونی تک اور جہانگیر روڈ سے اورنگی تک کی بلوچ آبادیوں پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے منظم اتحاد بنا لیے۔
سابق اعلیٰ پولیس افسر نے کہا کہ شہر میں ایم کیو ایم کے دیگر مخالفین جن میں قوم پرست حلقے اور ایم کیو ایم حقیقی کے تشدد پسند عناصر سمیت دیگر قوتیں بھی شامل تھیں ان سب نے بھی کھلّم کھلّا یا درپردہ عزیر کی حمایت شروع کر دی۔
’علاقہ گیری کا یہ کھیل دو حصّوں میں بٹ گیا تھا۔ ایک گروہ نے عزیر کی سیاسی اور عسکری حمایت شروع کی اور دوسرا گروہ وہ تھا جس میں ایم کیو ایم کی (غیر اعلانیہ) عسکری قیادت بھی شامل رہی اور اس گروہ نے عزیر کے سب سے بڑے مخالف یعنی ارشد پپّو اور لیاری کےایک اور وار لارڈ غفار ذکری کی پشت پناہی شروع کر دی۔‘

بلوچستان کے علاقے تربت سے تعلق رکھنے والا غفار ذکری کسی زمانے میں رحمان کا حامی رہا تھا مگر تب تک وہ رحمان کے گروہ کا مخالف ہو چکا تھا اور عیدو لین اور ذکری پاڑہ جیسے علاقوں میں قدم جما چکا تھا۔
نبیل گبول کا کہنا ہے کہ ’پہلے کراچی کا کنٹرول ایم کیو ایم کے پاس تھا مگر پھر لیاری کی وجہ سے بندرگاہ اور اطراف کے علاقوں کا کنٹرول عزیر کے پاس آ گیا تھا۔ کنٹینرز جب نکلتے تھے کراچی پورٹ سے تو عزیر ان سے بھتّہ لیتا تھا پھر انھیں چھوڑتا تھا۔‘
ارشد پپّو اور غفار ذکری کی مدد کے سوال پر نبیل گبول نے کہا کہ ’میرا کبھی کوئی تعلق نہیں رہا گینگ وار سے بلکہ میں تو واحد لیڈر تھا لیاری کا جو کھل کر گینگ وار کی مخالفت کرتا رہا۔ میری تو پیپلز پارٹی سے مخالفت بھی اسی بنیاد پر ہوئی تھی۔ میں ایم کیو ایم میں بھی مجبوراً گیا تھا تاکہ پارلیمان کا رکن بن سکوں اور عزیر کی گرفتاری میں مدد بھی کر سکوں۔‘
لیاری کے بزرگ مکین کے مطابق عزیر بلوچ نے شہر بھر میں پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابی امیدوار مقرر کرنے لئے مداخلت کی اور بندوق سیاست پر غالب دکھائی دی۔ کراچی سے کم از کم بیس امیدوار عزیر کی مرضی سے نامزد ہوئے۔"
اس وقت کے پیپلز پارٹی کراچی کے صدر اور آج کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل اس پس منظر کی وضاحت مختلف انداز میں کرتے ہیں۔
’لیاری کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ لیاری کے نمائندے لیاری کے مکین ہی ہونے چاہییں۔ ایک طرف لیاری میں امن و امان کی صورتحال اس حد تک خراب تھی۔ 14 دن تو سندھ حکومت کو لیاری میں آپریشن کرنا پڑا۔ ان حالات میں آپ کو ایک پرامن الیکشن کروانا ہو۔
’جب آپ نے دیکھا کہ سندھ حکومت کا آپریشن ناکام ہوا اور دیگر ’اداروں‘ نے بھی مدد کرنے سے انکار کرد یا تھا اور 14 دن تک پولیس کے علاوہ کسی اور فورس نے حصّہ تک بھی نہیں لیا اور 52 لوگ مارے گئے تو پھر ایک بزرگ کمیٹی بنی۔‘
تاہم قادر پٹیل نے یہ بھی کہا کہ ’میں نہیں کہوں گا کہ بزرگ کمیٹی کا لیاری گینگ وار سے تعلق نہیں تھا۔ اس بزرگ کمیٹی نے مذاکرات کیے اور ایسے غیرجانبدار لوگ چنے گئے بلکہ شاہجہاں خان جو ایم این اے بنے، جاوید ناگوری ایم پی اے بنے وہ بھی پیپلز پارٹی کے لوگ تھے تو یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ کسی نے کسی کو ڈکٹیٹ کیا۔‘
ان کے مطابق ‘لیاری میں دیگر جماعتیں بھی سیاسی کامیابیاں حاصل کرتی رہیں مگر وہاں ہمیشہ پیپلز پارٹی کی جڑیں مضبوط رہیں اور ہمیں سیاسی کامیابی کے لیے گینگ وار سمیت کسی کی کبھی ضرورت نہیں رہی۔‘
مگر اس دوران گینگ وار نے ایسے پر پھیلائے کہ شہر بھر میں پولیس افسر ہوں یا رینجرز کے اہلکار یا پھر قید میں ان گروپوں کے ارکان سے بدسلوکی کرنے والا جیل کا عملہ، مخالف قوتوں کے عسکری جنگجو ہوں یا بھتّے دینے سے انکار کرنے والے تاجر و دکاندار جس نے جب اور جہاں ان گینگز کے احکامات کی خلاف ورزی کی یا ان کی طاقت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ، مارا گیا۔
بھتّہ ہو، اغوا برائے تاوان ہو یا منشیات کا دھندہ۔ تعمیراتی کام کا ٹھیکہ ہو یا شپنگ کنٹینرز کی آمد و رفت۔ سمگلنگ ہو یا اسلحے کا ناجائز کاروبار کوئی بھی جرم اب عام اور معمولی نہیں رہا تھا بلکہ باقاعدہ صنعت کی شکل اختیار کر گیا۔
’لیاری تو کھیلوں، باکسنگ اور مارشل آرٹس کا مرکز تھا۔ وہاں فٹبال کے انٹرنیشنل پلیئر پیدا ہوتے تھے۔ میرا لیاری جو فٹبال کے کھیل کے لیے مشہور تھا وہاں انسانی سروں سے فٹبال کھیلی گئی۔‘ بات کرتے ہوئے لیاری کے بزرگ مکین کا گلا رندھ گیا، آواز بھرّا گئی۔
ایس پی فیاض خان نے بھی تصدیق کی کہ ’کوئی دن نہیں ہوتا تھا کہ بیس پچیس لوگ نہ مرتے ہوں۔ ایک وقت ایسا آیا کہ مرنے والوں کے لواحقین نے تھانوں میں رپورٹ کرنا چھوڑ دیا تھا۔‘
اسی دوران ارشد پپّو جیل سے چھوٹ کر آ چکا تھا۔ بجھتے چراغ کی طرح ارشد پپّو نے اپنے اور اپنے والد حاجی لالو کے بکھر جانے والے گینگ کو منظم کرنے اور عزیر اور رحمان کے گینگ کے مقابلے پر لانے کی سر توڑ کوشش کی مگر اس وقت تک عزیر کا گینگ مکمل طور پر غالب آ چکا تھا اور مخالفین کی گلا کٹی لاشیں پورے علاقے سے ملنے لگیں۔

بزرگ شہری نے کہا کہ ’پھر لیاری میں تھانے دار سے لے کر ڈی ایس پی اور ایس پی تک کی تعیناتی تک عزیر بلوچ کی مرضی اور منشا سے ہونے لگی۔ یہاں تک کہ لیاری سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کون انتخابات میں صوبائی اور قومی اسمبلی کا رکن بنے گا یہ فیصلے بھی عزیر کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتے تھے۔
’ایسے ماحول میں سیاست اور بندوق کی طاقت سے پوری طرح مسلح عزیر کو اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کا موقع تب میسر آیا جب ارشد پپّو جیل سے چھوٹ کر آیا‘۔
ارشد پپّو حاجی لالو کا وہی بیٹا تھا جس نے رحمان کی مخالفت میں عزیر کے باپ فیضو کو قتل کیا تھا۔
لیاری کی اس کہانی کی تیاری میں مدد کرنے والے تقریباً تمام ذرائع نے دعویٰ کیا کہ فلمی اندازمیں قتل کرنے والے ارشد پپو کا اپنا قتل بھی بہت ہی فلمی مگر انتہائی بھیانک انداز سے ہوا۔ نبیل گبول، حبیب جان بلوچ اور سابق ایس پی فیاض خان نے بھی اس کی تصدیق کی۔
ایس پی لیاری فیاض خان نے بتایا کہ ’پپّو کو ڈیفینس کے علاقے پی این ایس شفا کے سامنے شیرو کے گھر سے اٹھایا گیا۔‘
ان کے مطابق شیرو پپّو کا خاص آدمی تھا اور اس کا بھائی حامد بھی وہیں تھا۔ لیاری میں تعینات کم از کم دو تھانے داروں جاوید بلوچ اور چاند خان نیازی نے اس کے لیے پوری مدد فراہم کی اور اس گھر سے ارشد پپّو کو قابو کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
فیاض خان کے مطابق ’یہ تو سب کو پتا ہے کہ ارشد پپّو نے دروازہ کھولا ہی پولیس افسران کو دیکھنے کے بعد تھا۔‘
اس سوال پر کہ جب لیاری کی گلیوں میں پولیس حکام ہی جرائم پیشہ عناصر کو اپنے مخالفین کو قتل و غارت میں مدد فراہم کر رہے تھے تو ریاست کے باقی سب ادارے یعنی فوج، خفیہ ادارے، عدالتیں خاموشی سے سب کچھ کیوں دیکھتی رہیں، نبیل گبول نے کہا ’ میں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز جو آپ کے صحافی ہیں جاوید چوہدری ان کے بھائی، ان کا پورا نام مجھے یاد نہیں ہے، کے پاس گیا کہ آپ کیوں نہیں انھیں پکڑ رہے، کیوں نہیں ایکشن لیتے؟ تو انھوں نے کہا کہ ہم جی ایچ کیو کی ہدایت پر کام کرتے ہیں، سندھ حکومت یا جی ایچ کیو سے کوئی کارروائی کرنے کی ہدایت آئی تو ہم ضرور اپنا کام کریں گے۔‘
پھر سب نے پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز پر اس زمانے میں براہ راست دکھائے جانے والے وہ مناظر دیکھے جب پولیس کی بھاری نفری چوہدری اسلم کی سربراہی میں لیاری کی افشانی گلی کے چیل چوک پر کھڑی گولیاں چلاتی رہی اور عزیر بلوچ براہ راست دکھائی جانے والی ٹی وی نشریات میں بطور مہمان شریک رہا۔
ایسے ماحول میں مقتول باپ کا بدلہ لینے کا موقع ملا لیاری کے بےتاج بادشاہ اور طاقتور سردار، عزیر بلوچ کو۔
نام نہ بتانے کی شرط پر گفتگو کرنے والے پولیس افسر نے بتایا کہ ’ارشد کو پولیس افسران نے ہی اس ہجوم کے حوالے کیا۔ بدلے کی آگ میں جلتے ہجوم میں زیادہ تر افراد خود پپّو کےہاتھوں اپنے پیاروں اور ساتھیوں کو کھو چکے تھے۔‘
ایس پی فیاض خان نے اپنے سابق مگر اعلیٰ افسر کی تائید کی۔

’پھر کیا تھا جو آپ سوچ سکتے ہیں وہ سب کیا گیا، زندہ ارشد پپّو کی انگلیاں کاٹی گئیں، ہاتھ پیر کاٹے گئے۔ چھری، چاقو، خنجر جس کے ہاتھ میں جو ہتھیار تھا سب استعمال ہوئے۔ کسی نے پتھر مارا، کسی نے ڈنڈا۔ ارشد پپّو اس حال میں بھی قاتلوں کو گالیاں بکتا رہا۔ کچھ بالکل مختلف بات کرتے ہیں کہ اس نے معافی مانگی مگر جہاں تک ارشد پپّو کو میں جانتا ہوں اس کا معافی مانگنا مشکل لگتا ہے۔‘
حبیب جان بلوچ کے مطابق ’ارشد پپّو کو تو لیاری والوں نے مارا۔ اب اس کو بلوہ کہہ لیں۔ ہزاروں لوگوں کے تشدد سے مر گیا وہ۔ جب رینجرز کے دو اہلکار مارے گئے تو اس کا الزام آیا گینگ وار پر تو رینجرز کا غصّہ تھا پپّو پر کہ اس نے اپنی سیاسی مدد سے یہ کیا۔‘
جبیب جان کو ارشد پپو کے قتل میں نامزد بھی کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بابا لاڈلا اور جھینگو جیسے کمانڈروں نے علاقے بھر میں دہشت پھیلانے کے لیے یہ سب کیا۔جو کچھ ہوا بڑی بے دردی سے ہوا۔ ہر ایک نے دیکھا تھا اس دہشت ناک منظر کو۔‘
پاکستانی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق انتقام کی آگ میں جلتے مشتعل قاتلوں نے تشدد ے بعد ارشد پپّو کی گردن تن سے جدا کر دی۔ اس کے کٹے ہوئے سر کو ٹھوکریں ماری گئیں (جسے بعض اخبارات میں فٹبال کھیلنا لکھا گیا) لاش کے ٹکڑے کر دیے گئے اور بالآخر کٹی پھٹی لاش کے باقی ماندہ ٹکڑوں پر پیٹرول ڈال کر آگ لگا دی گئی۔
’عزیر کے باپ فیضو کو قتل کرنے والے ارشد پپّو کا یہ انجام ہوا۔‘ یہ کہتے ہوئے لیاری کے بزرگ کی آواز میں خوف آلود جھرجھری نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی تھی۔
گینگ چھوڑ کر دشمن بن جانے والے عزیر بلوچ کے دوسرے مخالف بابا لاڈلا کا انجام بھی ظاہر ہے، اچھا نہیں تھا۔
دبئی چوک کلری کے رہائشی بابا لاڈلا پر ایک فٹبال میچ کے دوران بم سے حملہ ہوا۔ بابا لاڈلا توبچ گیا مگر چھ، سات لوگ مارے گئے۔
ایس پی فیاض نے بتایا کہ ’بم حملہ موٹر سائیکل میں نصب دھماکہ خیز مواد کے ذریعے کیا گیا تھا۔ اس وقت تک گینگ وار کے ڈانڈے متشدد جہادی حلقوں سے جڑ چکے تھے۔ ہمیں بھی ایک کلیو اور سائن ملا کہ لیاری میں جہادی حلقے ہیں اور بابا لاڈلا بھی سمجھ گیا کہ حملہ کیوں ہوا۔
’دو سو سے زائد افراد کے گینگ کے سردار بابا لاڈلا نے بدلے میں عزیر کے انتہائی قریبی ساتھی ظفر بلوچ کو مار دیا جس کا تعلق کسی زمانے میں پیپلز پارٹی سے رہ چکا تھا۔‘

فیاض خان کے مطابق ’اب ایک نئی گینگ وار کا آغاز ہوا۔ عزیر اور بابا کے کمانڈر بٹ گئے۔ سائے کو سائے سے خوف آنے لگا ، کوئی کسی پر بھروسہ نہیں کر رہا تھا کہ پتا نہیں کون کس کا دشمن ہے اور کون کس کا دوست اور ہوا بھی یہی۔ دھوکے سے ایک دوسرے کے حامی اور مخالفوں کے قتل شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ کھانا ساتھ کھانے والے دوستوں نے کھانا ختم ہونے سے پہلے ہی دوسرے دوست کو ختم کر دیا۔‘
نام خفیہ رکھنے والے اعلیٰ پولیس افسر نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا ’گینگ وار کی اس کہانی میں اس وقت تک بلاشبہ ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکےتھے۔ اور اب سسٹم اپنی علمداری کی برتری کی مہر لگانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔
’نظام تو پھر نظام ہوتا ہے ناں۔ آپ تو جانتے ہی ہیں۔ یہ اطلاعات بھی گردش میں تھیں کہ کسی جگہ صوبائی وزیر داخلہ کے قتل کی منصوبہ بندی ہوئی ہے، اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور صوبائی سیٹ اپ میں بھی اگر تب تک کوئی حمایت تھی تو وہ بھی باقی نہیں بچی۔ یہ وہی وقت تھا جب آصف زرداری کے ایک قریبی ساتھی نے ان سے اپنی راہیں جدا کیں اور ریاست میں اعلیٰ سطح پر گینگ وار کی کہانی کو روکنے کا فیصلہ عملی طور پر نافذ ہونا شروع ہوا۔
’صورتحال کی نزاکت کا احساس ہوتے ہی عزیر جیسے سمجھدار اور شاطر ذہن نے علاقے سے نکل جانے میں عافیت جانی اور ایک روز لیاری سے نکل گیا۔ عزیر اور تاجو نے تو اپنے علاقائی کمانڈرز تک کو نہیں بتایا اور خاموشی سے لیاری سے نکل گئے۔
’اب رینجرز فعال ہوئے اور لیاری میں آئے دن گینگ وار لارڈز کی گرفتاریوں کے لیے چھاپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ بابا لاڈلا اور غفار ذکری جیسے لوگ ایسے ہی چھاپوں میں گرفتاری سے بچنے کے لیے ’مقابلے کے دوران‘ مارے جانے لگے اور آہستہ آہستہ لیاری پر قابض گینگ وار کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔‘
’ان کا صفایا بالکل اسی انداز سے ہوا جیسے رحمان مارا گیا تھا۔ بس میں اتنا ہی کہنا چاہوں گا۔‘ اعلیٰ سطح کے پولیس افسر نے محتاط انداز اپنایا۔
’کئی وار لارڈز اور اُن کے گینگز کے ارکان اس دوران مارے گئے مگر عزیر پہلے بلوچستان کے راستے ایران اور بالآخر دبئی جا پہنچا۔‘
نبیل گبول گینگز کی اس ’صفائی‘ کو حتمی اختتام ماننے سے ہچکچائے مگر انھوں نے گینگ وار کی روک تھام کا کریڈٹ فوج کے خفیہ اداروں کو بھی دیا اور ملک کے (اس وقت کے) وزیر داخلہ چوہدری نثار کے ساتھ ساتھ خود کو بھی اس کا حقدار ثابت کرنا چاہا۔
’2013 کے اختتام تک ہی عزیر جعلی ایرانی پاسپورٹ پر دبئی پہنچا تھا، جعلی ایرانی شناختی دستاویزات اور سفری کاغذات استعمال کرتے ہوئے۔ ہمارے اداروں کو تو اس کا پتا ہی تھا۔ پاکستانی حکام نے اس کا ریڈ وارنٹ بھی پاکستانی پاسپورٹ کی تفصیلات پر جاری کروایا تھا۔‘

نبیل گبول کے مطابق ’عزیر تو دبئی سے بھی رہا ہونے والا تھا مگر ابوظہبی کے کچھ شیخ میرےعلاقے میں آتے تھے شکار کے لیے۔ میں نے اپنی دوستی استعمال کی اور جعلی ایرانی پاسپورٹ اور جعلی ایرانی شناختی دستاویزات دبئی سے نکلوائیں پھر وزیر داخلہ چوہدری نثار اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل، جنرل رضوان نے ذاتی دلچسپی لی تو پھر اسے پاکستان واپس لایا گیا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’عزیر ایرانی اور بھارتی خفیہ اداروں کے اہلکاروں سے بھی ملتا رہا۔ لیاری سی پورٹ سے جڑا ہوا ہے۔ نیوی کی حساس تنصیبات قریب ہیں، ایک حملہ بھی ہوا تھا کراچی میں نیوی کے جہاز پر آپ کو یاد ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ عزیر کے خلاف جاسوسی کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلا اور اس کو سزا سنائی گئی۔‘
کراچی میں ان دنوں تعینات اور سرگرم پولیس افسران دعویٰ کررہے ہیں کہ عزیر بلوچ کو سول انتظامیہ کے حوالے کیا جا چکا ہے اور اسے لیاری کے قریب واقع مٹّھا رام ہاسٹل منتقل کر کے اس عمارت کو سب جیل قرار دیا جا چکا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ عزیر بلوچ کی رہائی کا کوئی امکان ہے۔ عزیر کا سیاسی چہرہ سمجھے جانے والے حبیب جان بلوچ کے مطابق جب اس ملک میں بڑی بڑی سیاسی شخصیات چھوٹ سکتی ہیں تو عزیر بلوچ بھی رہا ہو سکتا ہے۔
اس سوال پر کہ عزیز بلوچ پر تو سرعام ارشد پپو کے قتل کا الزام ہے تو جبیب جان کا کہنا تھا کہ ’عزیر کے باپ کو منشیات فروشوں نے مارا۔ اس کا کلچر تھا کہ اپنے باپ کا بدلہ لے۔ اس کی ماں نے کہا تھا کہ تُو میرا بیٹا نہیں جب تک باپ کا بدلہ نہ لے لے اور ارشد پپّو تو ہجوم کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس قتل کے اور محرکات بھی دیکھنے ہوں گے۔‘
تاہم نبیل گبول نے عزیر کی رہائی کو خارج از امکان قرار دیا۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ عزیر باہر نہیں آئے گا۔ اس پر رینجرز کے دو اہلکاروں کا قتل ہے۔ فوج اپنے اہلکاروں کی لاشیں معاف نہیں کرے گی۔ عزیر تو جی آئی ٹی میں خود مانا ہے اس بات کو‘۔ نبیل گبول نے دعویٰ کیا۔

عزیر بلوچ کی رہائی ہونے یا نہ ہونے کا امکان اپنی جگہ مگر سوال یہ ہے کہ جس لیاری سے فلاحی شعبے میں عالمی شہرت یافتہ شخصیت عبدالستار ایدھی جیسے سماجی کارکن، 1988 کے سیئول اولمپکس میں کانسی کا تمغہ اور ساؤتھ ایشینز گیمز میں لگاتار پانچ مرتبہ گولڈ میڈلسٹ رہنے والے عالمی شہرت یافتہ باکسر حسین شاہ اور ملنگ بلوچ کیپٹن استاد محمد عمر جیسے عالمی سطح کے فٹبالر پیدا ہوئے جو بین الاقوامی مقابلوں تک پہنچے۔
تعلیم کے شعبے میں علی محمد شاہین جیسے استاد، صحافت کے شعبے میں انگریزی اخبار ڈان سے وابستہ ہارون فیملی اور کرائم رپورٹر کاکا غلام علی اور صدیق بلوچ آئے۔ جہاں پیدا ہونے والے فنکار سلیمان شاہ، ابراہیم ڈاڈا اور انور اقبال برسوں تک ٹی وی پر اپنے فن کا جادو جگاتے رہے اسی لیاری میں دادل اور حاجی لالو، رحمان بلوچ ، عزیر بلوچ ، بابا لاڈلا، ارشد پپّو اور غفار ذکری جیسے لوگ کیسے پیدا ہوئے؟
لیاری کے نامور صحافی نادر شاہ عادل نے بی بی سی اردو کے سینیئر صحافی عبدالرشید شکور کو بتایا تھا کہ ’کسی نے بھی ان ستاروں کی چمک دمک کی حفاظت کی ہوتی اور لیاری کی غربت دور کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جاتے تو خان محمد، محمد علی ُمشکی اور دوسرے باکسرز بازاروں میں ریڑھیاں لگانے پر مجبور نہ ہوتے اور عبدالعزیز جونا مارکیٹ کی فٹ پاتھ پر بیٹھ کر تالے چابیاں نہ بنا رہے ہوتے‘۔
جب پیپلز امن کمیٹی کے رہنما اور عزیر بلوچ کے ساتھی حبیب جان سے سوال کیا گیا کہ عالمی کھلاڑیوں کے لیاری میں موت کے کھلاڑی کیسے پیدا ہوئے تو انھوں نے سوال کا جواب سوال ہی سے دیا۔
وہ بولے ’آپ بتائیے جس (عزیر بلوچ) کا باپ اپنے بچے کو لنڈا بازار سے جوتے اور فٹبال کھیلنے کے کپڑے خرید کر دیتا ہے کہ بیٹا کے پی ٹی میں فٹبال کھیلے گا وہ گینگسٹر بنا کیوں؟‘
لگتا ہے کہ لیاری کے گینگز کے جرائم نے غربت کے نطفے سے بیروزگاری کی کوکھ میں جنم لیا۔
اس سوال پر کہ کیا لیاری گینگ وار چلتی رہے گی یا عزیر کی گرفتاری پر اسے ختم تصوّر کر لیا جائے؟ حبیب جان نے کہا ’نہ لیاری میں گینگ وار تھی ۔ نہ ختم ہو سکتی ہے۔‘

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی