چیف ایگزیکٹو پاکستان کرکٹ بورڈ وسیم خان نے اس بات کو مسترد کردیا ہے کہ ایشیا کپ ملتوی کرکے انڈین پریمیئر لیگ کیلئے ونڈو تلاش کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ایشیا کپ رواں سال کے آخر میں شیڈول ہے تاہم دیکھنا ہے یہ سری لنکا میں ہوتا ہے یا متحدہ عرب امارات میں۔ایشیا کپ وقت پر ہی ہوگا۔ پاکستان ٹیم دو ستمبر کودورہ انگلینڈ سے واپس آجائے گی ۔ ہم ستمبر یا اکتوبرمیں ٹورنا منٹ کراسکتے ہیں۔کچھ چیزیں ایسی ہیں جو وقت کے ساتھ ظاہر ہونگی ۔ ہم ایشیا کپ منعقد کرانے کیلئے پر امید ہیں کیونکہ سری لنکا میں کرونا وائرس کے زیادہ کیسز نہیں ہیں ۔ اگر سری لنکا نے انکار کیا تو متحدہ عرب امارات تیارہے ۔ پاکستان ایونٹ کا اصل میزبان ہے ۔انہوں نے اتفاق کیاکہ سری لنکا ایشیا کو اگلے رینجل ایونٹ کی میزبانی کے طور پر لے رہا ہے ۔ 
انہوں نے تصد یق کی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی ونڈو کیلئے کام کر رہا ہے ‘اگر میگا ایونٹ کا منصوبہ اکتوبر ‘نومبرسے آگے نہ گیا۔زمبابوے کے ساتھ ہوم سیریز کے بعد دسمبر میں دورہ نیوزی لینڈ ہے ۔انہوں نے انکشاف کیا کہ جنوبی افریقہ بھی آئندہ سال جنوری فروری میں دو یا تین ٹیسٹ میچز اور کچھ ٹی ٹونٹی میچز کھیلنے کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے حیرانگی کا اظہار کیا کہ پی سی بی کے کسی آفیشل نے اس سے قبل میچ فکسنگ کیخلاف قانون سازی کیلئے حکومت سے کوئی بات نہیں کی ۔لوگ جلد سنیں گے کہ جب میچ فکسنگ کے حوالے قانوی سازی ہوگی۔میچ فکسنگ اور کرپشن ثابت ہونگے پر جیل کی سزا ہوگی ۔
مستقبل قریب میں بھارت کے ساتھ دو طرفہ سیریز ممکن نہیں ہے ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ ہمیں وقتی طور پر بھارت کے ساتھ کھیلنے کو بھولنے کی ضرورت ہے ۔یہ پی سی بی اور بی سی سی آئی دونوں بورڈ ز کیلئے افسوسناک ہے ۔بھارتی بورڈ کو حکومت پاکستان کیساتھ کھیلنے کی اجازت نہین دیتی ۔ موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان سیریز کے بارے میں سوچنا حقیقت پسندانہ نہیں ہے ۔ ہم صرف آئی سی سی کے مالی حصہ پر منحصر نہیں کر سکتے ‘آئندہ دو سے تین سال کے مالی معاملات کیلئے منصوبہ کررہے ہیں ‘کمرشل کو بڑھائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال کے بورڈکے ایک ارب روپے کے قریب اخراجات میں کمی کی ہے ۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی